السلام علیکم جناب مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ رات کو احتلام کے بعد جو صبح غسل کیا جاتا ہے ، کیا اس غسل سے صبح کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ یا صبح کی نماز کے لئے الگ وضو کیا جاتا ہے ؟
واضح ہو کہ کامل طریقے سے غسل کرنے کے بعد اگر نواقضِ وضو میں سے کوئی عارض پیش نہ آیا ہو تو ایسی صورت میں فجر کی نماز کے لئے نیا وضو کرنا لازم نہیں ، بلکہ بغیر وضو کیے بھی نمازِ فجر ادا کی جاسکتی ہے ، البتہ اگر کوئی ناقضِ وضو درمیان میں پیش آگیا ہو تو ایسی صورت میں وضو کرنا ضروری ہے۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیة : و تقدیم الوضوء علیٰ الاغتسال فی الجنابة سنة و لیس بفرض عند علماءنا ۔رحمھم اللہ تعالیٰ حتیٰ أنه لو لم یتوضأ و أفاض الماء علیٰ رأسه و سائر جسدہ ثلاثاً أجزأہ اذا کان قد تمضمض واستنشق و فی السغناقی من العلماء من قال اذا اجنب الرجل أن یغسل یدیه وفرجه ثم یتوضأ وضوءہ للصلاۃ سوی القدمین اھ (1/151)۔