السلام علیکم!
میرے شوہر نے شادی کر لی ہے اور میں اپنے والد کے گھر عرصہ 13 سال سے رہ رہی ہوں، میں سکول میں ٹیچر ہوں، لیکن صحت کی خرابی کے باعث اب میں جاب چھوڑنا چاہتی ہوں ، ہمارے گھر کے ساتھ والا مکان سیل ہو رہا ہے اورمیں چاہتی ہوں جاب چھوڑ کر یہاں نزدیک اکیڈمی کھول لوں جس کے لئے مجھے بینک سے سود کے ساتھ قرضہ لینا پڑے گا. کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں مکان خرید سکوں، آپ سے پوچھنا تھا کہ میرا بینک سے قرضہ لینا کیا صحیح ہے؟تاکہ میں اکیڈمی کھول کر خود کو مصروف رکھ سکوں. رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ دوسری شادی کرنا کوئی غیر شرعی عمل نہیں ہے ، بلکہ اگر شوہر ایک سے زیادہ بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر ہو تو اس کیلئے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، لہذا سائلہ کا اپنے شوہر سے صرف اس وجہ سے ناراض ہونا کہ اس نے دوسری شادی کرلی ہے ,قطعاً درست نہیں , سائلہ کو چاہیئے کہ شوہر کے ساتھ رہنے کی کوئی ترتیب بنائے یا طلاق لے کر کسی دوسری جگہ نکاح کرلے ، جبکہ سائلہ کا اسکول بنانے کیلئے سودی بینک سے قرضہ لینا تو درست نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ سائلہ کسی اسلامی بینک سے معاملات کرکے اپنی ضرورت پوری کرسکتی ہے ۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1