کیا طلاق کے بعد عورت اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر اپنے شیر خوار بچے کا کیس خود لڑ سکتی ہے ؟ ماں باپ بچی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کیس نہیں کرنا، کیا ماں بچے کو جدا کرنا ٹھیک ہے ؟ ماں اپنے حق کے لیے لڑنا چاہتی ہے،اگر ماں باپ یہ دباؤ ڈالیں تو وہ گناہ گار ہوں گے اور بچی ماں باپ کی اجازت کے بغیر اگر کیس لڑتی ہے ، تو وہ گناہ گار ہوگی ؟
واضح ہوکہ طلاق کے بعد لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک ان کی پرورش کی سب سے زیادہ حقدارشرعا ان کی والدہ ہے،بشرطیکہ اس دوران وہ بچہ کے کسی غیر محرم سے نکاح نہ کرے،لہذا اگر خاتون اس معاملہ میں والدین کی اجازت کے بغیر بچے کی خاطر کسڈی کیس لڑتی ہے ، تو وہ گناہ گار نہ ہوگی۔واللہ اعلم