میں نے اَپنی بیوی کو گاؤں بھیجا تھا شادی میں , پہلے 1 مہینے میں اور جس دن وہ وہاں پہنچی تھی بس اس دن ہی اس سے بات ہوئی ہے اور آج 6 مہینے ہوگئے ہیں اس سے میری کوئی بات نہیں ہونے دے رہے ہیں, اسکی بہن اور بہنوئی, اور میرے نمبر بھی بلوک کر رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کورٹ سے خلع لے لی ہے ,اب تمہارا کوئی تعلق نہیں اور مجھے کوی نوٹس نہیں آیا , کیا اس طرح طلاق ہو جاتی ہے, اور لڑکی پریگننٹ بھی ہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقدہے،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے،چنانچہ سائل نے اگر اپنی بیوی کو زبانی یا تحریری کوئی طلاق نہ دی ہو ،اور اس کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو ،تو یہ ڈگری شرعاً معتبر نہیں، مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،لہذا اس ڈگری کی بنیاد پر سائل کی بیوی کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
و فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول ،لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول۔(كتاب الطلاق، فصل فى ركن الطلاق،3/145)-
و فی رد المحتار : و أما ركنه فهو كما في البدائع : إذا كان بعوض الإيجاب و القبول ؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة و لايستحق العوض بدون القبول۔(3/441)-