ایک عورت نے میری بیوی کو بتایا کہ اگر دورانِ مباشرت مرد عورت کا سر نہ چھوئے تو دورانِ غسل اس کو اپنے سر دھونے کی ضرورت نہیں، کیا یہ بات درست ہے؟
نہیں! یہ بات صحیح نہیں ، کیونکہ مباشرت سے غسل لازم اور فرض ہو جاتا ہے اور فرض غسل میں سر سے لیکر پاؤں تک پورے جسم کو اچھی طرح دھونا ضروری ہے ورنہ غسل نہیں ہو گا ، لہٰذاسر کو بھی دھونا ضروری ہے، چاہے اس دوران شوہر کاہاتھ بیوی کے سر کو لگے یا نہ لگے، بلکہ اگر ایک بال کے برابر جگہ بھی خشک رہ گئی تو غسل نہیں ہوگا۔
وفي الدر المختار: (ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية) وشعر رأس ولو متبلدا لما في - ﴿فاطهروا﴾ [المائدة: 6]- من المبالغة اھ (1/ 152)
وفي الفتاوى الهندية: وليس على المرأة أن تنقض ضفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر (إلی قوله) ولو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه اھ(1/ 13) واللہ تعالی اعلم!