السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حضرت مفتی صاحب میرا بھائی ہےمجھ سےچھوٹا ، اسکی شادی کی ہے ,بہت خو ش تھا لیکن میری والدہ چھوٹےبھائی کےکان بھرنےکےساتھ ساتھ بھائی کو اپنی بیوی پرسختی کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اسکو ہر ماہ نفقہ 10ہزارمیں سے صرف 500دلواتی ہے ،باقی تنخواہ والدہ خود رکھتی ہے ,حالانکہ والدہ کی اپنی پنشن بھی ہے, اور گھرکا مکمل نظام اللہ کی توفیق سے میرے ذریعے چل رہاہے ، اور جب امی کو یہ چھوٹے بھائی کے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہےتو وہ والے 500بھی اس سے واپس لے لیتی ہیں یہ کہہ کر کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے تو پیسوں کو کیا کرناہےتو اس بات کو لیکر لڑائی جھگڑارہتاہےاور چھوٹے بھائی کی بیوی اپنے خاوند کو ہمبستری کیلۓ اپنےقریب نہیں آنےدیتی کہ پہلے نفقہ دے پھر میرےپاس آؤ ،لیکن خاوند طلاق کی دھمکی دیکر بعض دفعہ نشہ آوراشیاء کھلاکر اس سے ہمبستری کرلیتاہے -
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں بیوی کا اپنے خاوند کےساتھ ,خاوند کا اپنی بیوی کےساتھ اس طرح رویہ رکھنا اور والدہ کا ایسا فعل کرنادرست ہے یا نہیں ؟ جبکہ ایک گھرمیں دونوں بہنیں ہیں ۔
واضح ہو کہ شوہر پر والدہ اور بیوی دونوں کے الگ الگ حقوق ہیں، ایک کے حقوق کی ادائیگی میں دوسرے کی حق تلفی کرنا درست نہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بھائی اور بھابھی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوں اور سائل کا بھائی کھانے پینے اور کپڑے وغیرہ دیگر ضروریات پوری کرتا ہو تو اس پر الگ سے بیوی کو جیب خرچ دینا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی بیوی کا اس وجہ سے شوہر کو ہمبستری سے روکنا شرعاً جائز ہے،بیوی کو اپنے اس رویہ سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر شوہر ضروریات کی مد میں بیوی کو جیب خرچ دیدے تو بیوی اس رقم کی مالک بن جائیگی،لہذا اس کی رضامندی کے بغیر اس سے مذکور رقم لینا شرعاً جائز نہیں، جبکہ سائل کی والدہ کا بیٹے کو اپنی بہو کے خلاف اکسانا یا بھڑکا نا بھی درست عمل نہیں جس سے ان کو احتراز لازم ہے ۔
فی الدرالمختار :و شرعا (هي الطعام و الكسوة و السكنى) و عرفا هي الطعام (و نفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة : زوجية و قرابة و ملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح ، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) لأنها جزاء الاحتباس اھ (3/572)۔