اہلیہ کو (Migraine) کی تکلیف ہے، لہٰذا ہر بار ہمبستری کے بعد سر دھونا ا سکی بیماری میں اضافہ کر رہاہے تو غسل میں سر پورا دھونا ہے یا سر کےمسح سے غسل ہوجائے گا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیماری کی وجہ سے اگر سائل کی اہلیہ کا غسل کرتے ہوئے سر دھونے سے ان کا مذکور مرض اس قدر بڑھ رہا ہو، جو قابلِ برداشت نہ ہو، یا ماہر دیندار ڈاکٹر کے مطابق سر دھونا اس بیماری کی شدت اور دوائی کا باعث بن رہاہو، تو ایسی صورت میں سائل کی اہلیہ کیلئے غسل کرتے وقت سر پر مسح کرتے ہوئے باقی بدن دھونے کی شرعاً گنجائش ہے، اور ایسا کرنےسے ان کا غسل اور اس غسل کے نتیجہ میں کئے جانے والے اعمال شرعاً درست ادا ہوں گے۔
کما فی اعلاء السنن: عن عمرو بن العاص رضی اللہ عنه قال احتلمت فی لیلة باردة فی غذوة ذات سلاسل، فأشفقت أن اغتسل فأهلك فتیممت، ثم صلیت بأصحابی فذکروا ذلك للنبيﷺ، فقال: یا عمر وصلیت بأصحابك وأنت جنب، فاخبرته بالذی منعنی من الاغتسال، وقلت إنی سمعت اللہ، یقول ﴿ولا تقتلوا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیمًا﴾ فضحك رسول اللہﷺ ولم یقل شیئًا رواه ابو داود والحاکم، واسناته قوی فتح الباری. (باب التیمم، ۱/ ۲۳۰، ادارة القرآن والعلوم الاسلامیه)
وفی ردّ المحتار: تحت قوله (وبعکسه وهو مالو کان أکثر الاعضاء صحیحًا یغسل الخ) لکن اذا کان یمکنه غسل الصحیح بدون اصابه الجرح وإلا تیمم حلیة، فلو کان الجراحة بظهره مثلًا وإذا صب الماء علیھا یکون ما فوقها فی حکمها فیضم الیه کما بحثه الشرنبلالی، فی الامداد وقال لم أره، وما ذکرناه صریح فیه (باب التیمم، ۱/ ۲۵۷ ایچ ایم)
وفی فتح القدیر تحت: (قوله ولو کان یجد الماء الا أنه مریض یخاف ان استعمال الماء اشد مرضه) أو أبطأ برؤه یتیم ولا فرق بین أن یشتد بالتحرك کالمشتکی من العرق المدنی والمبطون أو بالاستعمال کالجدری ونحوه (باب التیمم ۱/ ۱۹۰، مکتبه رشیدیه)
وفی الهدایة (ولو کان یجد الماء الا أنه مریض فخاف ان استعمال الماء اشتد مرضه) لما تلونا ولان الضرر فی زیاده المرض فوق الضرر فی زیادة ثمن الماء وذلك یبیع التیمم فهذا اولٰی ولا فرق بین ان اشتد مرضه بالتحرك او بالاستعمال الخ. (باب التیمم: ۱/ ۴۸، مکتبه رحمانیه)
وفی البحر الرائق: (قوله أو لمرض) یعنی یجوز التیمم للمرض وأطلقه وهو مقید بما ذکره فی الکافی من قوله بان یخاف اشتدار مرضه لو استعمل الماء فعلم ان الیسیر منه لا یبیح التیمم وهو قول جمهور العلماء الا ما حکاه النووی عن بعض المالکیة وهو مردود بانه رخصه أبیعت للضرورة ودفع الحرج وهو انما یتحقق عند خوف الاشتداد والا مترادو الا فوق عندنا بین أن یشتد بالتحرك کالمبطون أو بالاستعمال کالجدری الخ. (باب التیمم: ۱/ ۱۴۰، مکتبه ماجدیه) واللہ اعلم!