السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم !میں معلوم کرناچاہتا تھاکہ جاز کیش اکانٹ والے تھوڑا لون دیتے ہیں، اگر ان کے اوپر کچھ پیسے آئے تو کیا ربا کے حکم آتا ہے یا نہیں؟ اگر آتا ہے اور کسی نے کیا ہو عند اللہ معافی کس طرح ملے گی؟
واضح ہو کہ قرض دیکر اس پر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کر ناشر عاً سود ہے، جس پر قرآن وحدیث میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں جاز کیش والوں کا لون دیکر اس پر کسی بھی نام سے اضافی چارجز لینا سودی معاملہ ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے اور اب تک اگر مذ کو رگناہ سرزد ہوا ہو تو اس پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الفتاوى الشامية: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. اھ (5/166 مطلب كل قرض جر نفعا، ط: سعيد)۔
و فيه ايضا : وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا - اھ (6/63) ۔
و في اعلاء السنن: قال ابن المنذر أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زيادة أو هدية فأسلف على ذلك، إن أخذ الزيادة على ذلك ربا اھ (513/14 باب كل قرض جر منفعة، کتاب الحوالة ط: إدارة القرآن) -
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1