السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام ! عرض یہ ہے کہ میرے والدِ محترم جناب محمد ادریس خانزادہ (مرحوم) نے اپنا ذاتی مکان( واقع گلشنِ امین) فروخت کرکے ایک عدد مکان( واقع اٹاوہ ہاوسنگ سوسائٹی احسن آباد) خریدا تھا ، اس وقت ہم لوگ بشمول میں میری بیوی بچے ، میری والدہ اور بہن ، والد صاحب سے بہ وجوہ الگ رہ رہے تھے ، والد صاحب نے مؤخر الذکر مکان کی نچلی منزل اپنے سگے بھائی محمد جاوید اختر خانزادہ کو ماہانہ دس ہزار روپے کرائے (علاوہ گیس وبجلی کے بل) پر رہنے کے لئے دی تھی ، بعدِ ازاں ہم لوگ بشمول میں میری بیوی بچے ، میری والدہ اور بہن والد صاحب کے ساتھ ہی مذکورہ مکان کی بالائی منزل پر رہائش پذیر ہوگئے ، چونکہ بالائی منزل ہم سب لوگوں کی رہائش کے لئے ناکافی تھی ، لہذا میرے والد صاحب نے اپنے بھائی محمد جاوید اختر خانزادہ سے کہا کہ وہ نچلی منزل خالی کرکے اپنا انتظام کہیں اور کر لیں ، اس بات کے کچھ عرصے بعد ہی والد صاحب گردے کے شدید عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث ہسپتال میں داخل ہوگئے ، مؤرخہ 2 جنوری 2016 کو میرے والدِ محترم قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ، والد صاحب کے انتقال کے بعد میرے چچا محمد جاوید اختر خانزادہ نے نہ صرف مکان کا طے شدہ کرایہ دینا بند کردیا ، بلکہ بجلی وگیس کے بلوں کی ادائیگی بھی بند کردی ، جس کے نتیجے میں بجلی و گیس کے واجبات کئی لاکھ روپے تک جاپہنچے ، مسلسل ادائیگی نہ ہونے کے باعث متعلقہ محکموں کی جانب سے بجلی و گیس کی فراہمی منقطع کردی گئی ، چونکہ نچلی وبالائی منزل دونوں کے لیے بجلی و گیس کے ایک ہی کنیکشنز تھے ، لہذا منقطع ہونے کی صورت میں میری فیملی کو بھی شدید اذیت سے دو چار ہونا پڑا ، چارو ناچار مجھے اپنے ذاتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے جن میں ایک بہت بڑی رقم قرض کی صورت میں لینا بھی شامل ہے ، بجلی وگیس کے واجبات ادا کرکے ان کی فراہمی بحال کروانی پڑی ، اب صورتِ حال یہ ہے کہ میرے چچا محمد جاوید اختر خانزادہ نہ ہی کرایہ ادا کرتے ہیں اور نہ بجلی و گیس کی ادائیگی کرتے ہیں ، بلکہ نچلی منزل جہاں وہ رہائش پذیر ہیں ، اس میں غیر قانونی کنیکشنز کے ذریعے مذکورہ سہولتیں استعمال کررہے ہیں ، جبکہ میں نے بالائی منزل (جہاں میں اور میری فیملی رہائش پذیر ہیں ) کے لئے علیحدہ قانونی کنیکشنز حاصل کررکھے ہیں ، میرے اور میری والدہ کے بار بار کہنے پر بھی وہ مکان کی نچلی منزل خالی کرنے پر تیار نہیں ، گویا میرے چچا نے اپنے مکان کی نچلی منزل پر قبضہ کر رکھا ہے ، آپ سے درخواست ہے کہ براہِ مہربانی از روئے شریعت بیان فرمائیں کہ کیا میرے چچا کا یہ عمل جائز ہے؟ اور قرآن و حدیث میں ایسے شخص کے لئے کیا وعید آئی ہے ، مزید یہ کہ میرے ایک چچا ہارون خانزادہ جو کہ عرصہ دراز سے کینیڈا میں مقیم ہیں ، وہ بھی جاوید اختر کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں اور بجائے اس کے انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ مکان کی نچلی منزل کا قبضہ ہمارے حوالے کردیں ، الٹا ان کے اس عمل کی حمایت کرتے ہیں ، لہٰذا ایسے شخص کے بارے میں بھی بیان فرمائیں کہ قرآن وحدیث میں کیا وعیدیں وارد ہوئی ہیں؟
سائل کا سوال اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کا چچا مذکور منزل پر قابض ہوکر ورثاء کے مطالبہ کے باوجود ان کو ان کا شرعی حق نہ دے رہا ہو ، تو سائل کے چچا کا یہ عمل درست نہیں، بلکہ یہ غصب اور ظلم پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جبکہ سائل کے دوسرے چچا ہارون خانزادہ کا اپنے بھائی کی ناجائز طرف داری کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ، جس سے اسے احتراز لازم ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین غصب کرے گا، اللہ تعالی قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں پہنائیں گے ، لہذا سائل کے مذکور چچا پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل سے باز آکر مذکور منزل اس کے ورثاء کے حوالے کرکے مؤاخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ، بصورتِ دیگر اس کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ۔(النساء:29)
و فی تفسیرالبغوی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ يعني بالحرام، بِالرِّبَا وَ الْقُمَارِ وَ الْغَصْبِ وَ السَّرِقَةِ وَ الْخِيَانَةِ وَ نَحْوَهَا، عن تراض منکم :ای بطیب نفس کل واحد منکم۔(1/417)
و فی مرقاۃ المفاتیح: عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ: قال: قال رسول ﷺ : من اخذ شبرا من الارض ظلما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ سبع ارضیین (6/141)۔