السلام علیکم! میرے والدین نے میری شادی ایک لڑکی سے کرنے کا انتخاب کیا، لیکن انہوں نے نکاح سے پہلے مجھ سے اجازت نہیں لی،میں خوش نہیں تھا لیکن ان کا فیصلہ قبول کر لیا، پھر وہ مطالبہ کرنے لگے کہ میں لڑکی سے بات کروں، میں بہت روایتی ہوں اس لیے میں نے ان سے کہا کہ میں شادی سے پہلے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتا .پھر کچھ مہینوں کے بعد وہ میرے کردار کے بارے میں برا بھلا کہنے والے لوگوں پر یقین کرنے لگے تو انہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ ایک کاغذ پر خلع لکھ دیں،میں خوش نہیں تھا کہ انہوں نے میرے والدین کی بے عزتی کی، لیکن میں خوش تھا کہ یہ ختم ہو گیا، کچھ مہینوں کے بعد انہوں نے میرے والدین کو بتانا شروع کر دیا کہ وہ دوبارہ رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا نکاح اب بھی شرعی ہے؟ اگر ہاں، تو مجھے خاندان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ لوگ میری پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں۔
مسئولہ صورت میں سائل سے نکاح سے پہلےاگرچہ اجازت نہ لی گئی ہو،لیکن اگر سائل نے ازخود گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیا ہو،یا نکاح ہوجانے کے بعد اس پر رضامندی ظاہر کرلی ہو،تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا تھا،جس کے بعد لڑکی والوں کےسائل کے والد سےخلع کے مطالبہ پرسائل کے والد نے اگربذاتِ خود انہیں خلع نامہ لکھ دیا ہو،اورسائل نے اس پر دستخط نہ کیے ہوں،تو یہ خلع نامہ شرعاً معتبر نہیں اور اس سے نکاح بھی ختم نہیں ہوا،بلکہ اب بھی بدستور برقرار ہے،لیکن اگر سائل نے بھی اس پر دستخط کردئیے ہوں،تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکریہ نکاح اب باقی نہیں رہا،لہذا اب اگرسائل دوبارہ اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ رشتہ نہ جوڑنا چاہےتو اسے اس کا اختیار ہے۔
لما فی التنزیل العزیز ]البقرۃ:229ٗ[
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ فإنْ طلقها فلا تحل لهُ منْ بعْدُ حتى تنْكح زوْجًا غيْرهُ}.
وفی المبسوط للسرخسی (6/202)مط:رشیدیہ
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
وفی رد المحتار (3/441)مط:سعید
(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اهـ.