السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : میری بیوی نے مجھ سے خلع لیا ہے ،خلع کی ڈگری 23اگست( 2023 )کو جج نے دے دی ہے ،میرا سوال یہ ہے کہ کورٹ کی دی ہوئی خلع کو کتنی طلاق سمجھا جاتا ہے ،کیا عدت کے بعد یہ دو طلاق ہو جائے گی ،اور اگر میں رجوع نہ کرنا چاہتا ہوں ، تو کیا مجھے منہ سے طلاق دینا ہوگی ، دوبارہ کسی اور سے شادی کرنے کے لئے ،اس معاملے میں میری رہنمائی فرمادیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا ، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ سےیک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ، تو اس کی وجہ سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بد ستور برقرار ہے ، چنانچہ سائل کی بیوی کے لئے مذکور خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر سائل کی بیوی نے سائل یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو ایسی صورت میں شرعاً یہ خلع معتبر ہوگا ،اور اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد عدت گزار کرسائل کی بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی ،جبکہ عدت مکمل ہونے سے بقیہ دو(2) طلاقیں خود بخود واقع نہ ہوں گی ،اور نہ ہی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کے لئے سائل کے ذمہ بیوی کو زبانی طلاق دینا لازم ہوگا ،بلکہ دورانِ عدت یا جب اس کی عدت مکمل ہوجائے گی ،تو وہ اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کر سکے گا ۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين ; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239) ۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق(6/ 173) ۔
و فی بدائع الصنائع "و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول ؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول .(کتاب الطلاق ، فصل في شرائط ركن الطلاق و بعضها يرجع إلى المرأة(3/ 145)ط : دارالکتب العلمیة)۔