اگر کسی نے کسی سے مزا ح میں کہا ، کہ اگر تم میرا فلاں کام کردو ، تب میں ساری زندگی تمہارا غلام بن کر رہوں گا ، اب اگر اس کا وہ کام ہوجائے تو کیا دوسرا شخص اپنی زبان سے کئے گئے وعدے کے مطابق اس کا غلام کہلائے گا یا نہیں ؟ اور اس وعدے کا کفارہ کیا ہے ؟
سوال میں مذکور الفاظ " میں ساری زندگی تمہارا غلام بن کر رہوں گا " کہنے سے کوئی شخص واقعتاً غلام نہیں بن جاتا ، بلکہ عرف میں یہ الفاظ کسی کے احسان مند اور شکر گزار ہونے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، لہذا شخص مذکور کے کام ہونے کی صورت میں اس کے ذمہ معاونت کرنے والے شخص کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ کچھ بھی لازم نہ ہوگا ۔
کما فی الدر المختار : تحت (قولہ الایمان مبنیۃ علی الالفاظ ) ای الالفاظ العرفیۃ بقرینۃ ما قبلہ واحترز بہ عن القول ببنائھا علی عرف اللغۃ او عرف القرآن ( الی قولہ) فصار الحاصل ان المعتبر انما ھو اللفظ العرفی المسمی اعتبر و ان کان زائد علی اللفظ فلا یعتبر ، ولھذا قال فی تلخیص الجامع الکبیر و بالعرف یخص و لایزاد الخ ۔ ( باب الیمین فی الدخول و الخروج ج 3 ص 743 ط : سعید ) ۔
وفیہ ایضآً : تحت ( قولہ حلف لا یاکل من ھذہ النخلۃ ) الاصل فی جنس ھذہ المسائل ان العمل بالحقیقۃ عند الامکان فان تعذر او وجد عرف بخلاف الحقیقۃ ترکت الخ ( باب الیمین فی الاکل و الشرب ج 3 ص 767 ) ۔