محترم مفتی صاحب ! علماء اسلام مندرجہ ذیل مسئلہ پر کیا فرماتے ہیں کہ زید ایک ایسے محلے میں رہتا ہے جہاں زیادہ تر دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ، زید اور اس کے بھائیوں نے اپنی آبائی جائیداد پر اپنے مکانات تعمیر کیے تھے اور زمین کا ایک ٹکڑا ان کی قبروں اور دفنانے کے لئے مختص کیا گیا ہے ، ان کے خاندان کے دو افراد ، بشمول زید کے والد اور اس کی بھابھی اس خاندانی قبرستان میں دفن ہیں ، اس خاندانی قبرستان کے ساتھ دوسری برادری کے ایک آدمی کی تین منزلہ عمارت کھڑی ہے، یہ شخص جان بوجھ کر اپنی اوپر کی منزل سے گندگی اور غلاظت قبرستان میں پھینک رہا ہے ، اور قبر ستان کی جگہ کو منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کے سامنے بار بار اعتراضات دائر کر رہا ہے ، کیونکہ اس کے گھر والے خوف زدہ ہیں. اس طرح اب زید قبرستان کو ٹین شیٹ کی چھت سے ڈھا نپنا چاہتا ہے تاکہ اسے ان کے براہ راست دیکھنے سے ڈھانپ لیا جائے ،کیا زیردکا ایسا فعل اسلام کی نظر میں جائز ہے؟ برائے مہربانی تجویز فرمائیں ، اللہ تعالی آپ کو آخرت میں اجر دے گا، شکر یہ آپکا۔
صورت ِمسئولہ میں زید کا مذکور قبرستان کو گندگی اور غلاظت سے بچانے کی خاطر اس پر ٹین شیٹ کی چھت تعمیر کرنا جائز اور درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الہندیۃ: و یکرہ الآجر فی اللحد اذا کان یلی المیت کذا فی فتاوی قاضیخان الخ (ج1 ص166 ط:ماجدیۃ)-