السلام علیکم! مفتی صاحب !مجھے ایک مسئلہ پوچھنا تھا، میں دبئی میں تھا تو اپنی بیوی سے لڑائی میں یہ الفاظ مجھ سے نکل گئے کہ جیسے بندہ قسم اٹھائے کہ اللہ کی قسم میں تب تک آپ کے قریب یعنی ہمبستری کے لئے نہیں جاؤں گا جب تک آپ مجھے قرآن کی قسم پر اپنی صفائی نہ دو گی، پھر جب میں پاکستان آیا تو اس نے صفائی دی اور میں چلا گیا یہ الفاظ بولتے ہوئے میری کسی بھی طرح کی نیت نہیں تھی، بس مجھے شک والی بیماری ہوگئی تھی، اور ایک مشروط قسم اٹھائی اس کا حکم شرعی کیا ہے؟ شکریہ!
سائل نے جو الفاظ بولے ہیں ان الفاظ کو بعینہ نقل کرکے لکھے، نیز ان الفاظ کی ادائیگی کے کتنا عرصہ بعد سائل کی بیوی نے صفائی دیکر دونوں کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا، سائل کو چاہیئے کہ مکمل وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ای میل کردے یا کسی مستند دارالافتاء حاضر ہوکر وہاں موجود مفتیان کرام کے سامنے مکمل وضاحت کرکے ان سے حکم شرعی معلوم کرے۔