اسلامی اصولوں کے مطابق بینک کے فکس ڈیپازٹ اکاؤنٹ سے حاصل کردہ سود ی رقم امام مسجد اور ضرورت مند غریبوں کو دینے کے بارے کیافتوی ہے ؟ اسلامی مالیاتی اخلاقیات کی رو سے اس طرح کے اموال کی تقسیم کے بارے میں جو ارشادات ہیں ، وہ بھی بتائیں؟
واضح ہو کہ سودی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ یا فکس ڈیپازٹ میں رقم رکھواکر اس پر ماہانہ یا سالانہ منافع حاصل کرنا شرعاًسودہونے کی بناپر جائز نہیں ، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے ،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، البتہ اگر اب تک اس طریقہ سے جوحرام رقم حاصل ہو چکی ہو، تو اس پر توبہ واستغفاراور آئندہ کے لئے دوبارہ اس طرح کے حرام کاموں سے مکمل اجتناب لازم ہے ، اور اصل رقم کے علاوہ زائد رقم مستحقِ زکوٰۃ افراد پر صدقہ کرنا لازم ہے ، چنانچہ اگر امام مسجد بھی مستحقِ زکوٰۃ ہو تو اس کو بھی مذکور رقم دی جاسکتی ہے ۔
کما فی ردالمحتار؛ (قوله إلا في حق الوارث إلخ)(الی قولہ) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ(5/99 مطلب فیمن ورث مالا حرام ط سعید )۔
وفیہ ایضاً:(قوله: وفي شرح الوهبانية إلخ) (الی قولہ) رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر، ولو علم الفقير بذلك فدعا له وأمن المعطي كفرا جميعا اھ(2/292مطلب فی التصدق من مال الحرام ط سعید )۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1