السلام علیکم
میرا جو سوال ہے وہ دو چیزوں پر مشتمل ہے ایک تو یہ کہ سود اور منافع سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور منافع جو جائز طریقے سے کمایا جا رہا ہے، وہ تو ٹھیک ہے لیکن آج کل بہت زیادہ کنفیوژن ہے کہ یہاں پر ڈنمارک میں بہت ساری ایسے فارمز ہیں جو کہ مثال کے طور پہ کنسٹرکشن کا کام کر رہے ہیں گھر بنانے کے دکانداری کے اس میں وہ قرض مانگتے ہیں لوگوں سے آپ اگر قرض دیتے ہیں تو اس کے بعد وہ آپ کو آپ کے اصل جو اپنے پیسے دیے ہوتے ہیں وہ جب مکان تیار ہو جاتا ہے یا شاپ تیار ہو جاتی ہے تو اس کو بیچ کر یا پھر جو جس نے خریدنی ہوتی ہے اس کے ساتھ وہ معاملہ کر کے آپ کو اس سے جو پیسے ملتے ہیں آپ کی اصل قیمت کے ساتھ وہ جو آپ کا منافع کہہ لیں یا جو مخصوص ٹرم یوز کی جاتی ہے سود , وہ آپ کو ساتھ لگا کر دی جاتی ہے اب مجھے یہاں پر یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہی کام مسلم ممالک میں بھی ہو رہا ہے دبئی میں بھی ہو رہا ہے جو کہ آپ مکان کے لئے دیں کام اور وہی فارم اسی طرح کے فارم میں وہ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد یا تو کسی کرائے دار کو دے دیتی ہے یا پھر وہ بیچ دیتی ہے کسی کو , تو اس سے جو منافع ملتا ہے اس کو وہ پرافٹ کہتے ہیں یہاں پر اسی چیز کو سود کہتے ہیں تو وہاں پر صرف فرق یہ ہے کہ اس ادارے کے اوپر شرعی بورڈ بیٹھا ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اسلام کے مطابق ہے ،شریعہ کی مطابق فتاوی بھی موجود ہے ان کے پاس اور یہاں پر چونکہ اسلام نہیں ہے ڈنمارک میں مسلم ملک نہیں ہے تو یہاں فتاوی نہیں ہیں ، لیکن کام ایک ہی کر رہے ہیں میں نے یہ دیکھا ہے اور جو ان کی اصطلاحات ہیں مختلف ہیں ایک طرف وہ پرافٹ کو سود کہہ رہے ہیں دوسری طرف پرافٹ کے اوپر پرافٹ کہہ رہے ہیں تو اس طرح میں اس چیز کو کیسے سمجھوں اور اس کو لے کر چلوں، کیونکہ کام وہ دونوں جائز کام ہیں یعنی کہ کنسٹرکشن کا کام ایک تعمیر کر رہے ہیں ایک چیز ادھر بھی وہی کر رہے ہیں دونوں ملکوں میں تو غیر اسلامی ملک میں بھی کر رہے ہیں اور اسلامی ملک میں بھی کر رہے ہیں صرف فرق ایک شرعی بورڈ کا رہ گیا ہے تو شرعی بورڈ تو میرے خیال سے وہ یہ تعین کرتا ہے کہ جو بھی کسی حرام پراڈکٹ میں پیسہ استعمال نہ ہو تو حرام تو دونوں صورتوں میں نہیں ہے.تو میرا یہ سوال ہے کہ اس کو ہم لوگ کس نظر سے دیکھیں؟ اور کیا ایسی کسی انویسٹمنٹ میں انوالو ہونا چاہیئے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ کسی بھی کاروبار کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع کی حلت و حرمت کا دار و مدار اس کاروبار کے طریقہ کار اور شرعی اصولوں کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ ہے، فقط نام اور الفاظ کے رد بدل سے کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوتی ،لہذا جس جگہ کاروبار میں باقاعدہ عملی طور پر لین دین اور خرید و فروخت کرکے نفع و نقصان میں شریک ہوکر یا کسی جائز معاملہ میں شرعی ضابطے کے مطابق نفع حاصل کیا جائے اور پھر وہ نفع سرمایہ کاری کرنے والے اور دیگر شرکا کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے، تو یہ بلا شبہ جائز اور درست ہوگا، اور اگر اس کاروبارکی مرحلہ وار نگرانی باقاعدہ مستند علماء کرام کر رہے ہوں تو زیادہ اطمینان بخش اور تسلی کا باعث ہوگا، جبکہ سرمایہ کاری کرتے وقت اگر یہ سرمایہ کاری کرنے والا شخص اس کاروبار کے نفع و نقصان میں شرکت اور حصہ دار بنے بغیر فقط قرض کے طور پر سرمایہ فراہم کردے، تو یہ کیش پر اضافی رقم کا حصول ہے، جو سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، اور اس سلسلہ میں مزید تفصیلات اور فرق معلوم کرنے کے لئے مقامی طور پر علماء سے رابطہ کر کے پوری نوعیت اور تفصیلات سمجھ لیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (سورۃ البقرہ، الآیۃ:278) ۔
وفی في اعلاء السنن : عن فضالة بن عبيد، أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا أهـ (ج 14 ص510 ط: ادارة القرآن)۔
وفی الدر المختار: (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة اھ (ج5،ص648، سعید)۔
وفی الہندیۃ؛ أما الشركة بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع (کتاب الشرکۃ، ج2،ص302، ماجدیہ)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1