السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!کیا شیر خوارگی کے زمانہ میں عورت بچے کی صحت کی خاطر رمضان کے روزے قضاکر سکتی ہے ؟
بچے کو دودھ پلانے والی عورت اگر تجربہ یا کسی ماہرمسلمان ڈاکٹرکی رائے اور مشورے کی بنیاد پر روزہ رکھنے کیوجہ سے خود یا شیرخوار بچے کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں اس عورت کے لئے رمضان المبارک کے مہینے میں روزے نہ رکھنے کی گنجائش ہے ، البتہ بعد میں ان چھوٹےہوئےروزوں کی قضالازم ہوگی۔
کمافی التاتارخانیۃ:وقال فی الاصل اذاخافت الحامل أوالمراضع علی انفسھا او علی ولدھماجازالفظروعلیھاالقضاءالخ(الفصل السادس فیما یکرہ للصائم ان یفعلہ ومالایکرہ ج2ص384 ط:ادارۃالقرآن العلوم الاسلامیۃ)۔
وفی البحرالرائق: (قوله: وللحامل والمرضع إذا خافتا على الولد أو النفس) أي لهما الفطر دفعا للحرج ولقوله - صلى الله عليه وسلم - «إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل والمرضع الصوم» قيد بالخوف بمعنى غلبة الظن بتجربة أو إخبار طبيب حاذق مسلم كما في الفتاوى الظهيرية على ما قدمناه؛ لأنها لو لم تخف لا يرخص لها الفطر الخ(کتاب الصوم فصل فی العوارض ج2 ص285 ط:ماجدیہ)۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0