کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میں اپنی والدہ اور میاں صاحب کے درمیان ایک مسئلہ میں پھنس گئی ہوں!۔ میں ماہنامہ الفاروق کراچی میگزین (محرم الحرام 1445ء، ص: 04) پڑھ رہی تھی کہ اس میں نبی ﷺ کا فرمان پڑھا: ”وہ شخص جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کی حق تلفی کر کے اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے والا ہو تو اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھول دیے جائیں گے، اگر کسی ایک کی حق تلفی کی ہے تو جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، کسی صحابی نے سوال کیا کہ اگر چہ والدین نے اس پر ظلم کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ والدین نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو (پھر بھی ان کے حقوق کی ادائیگی فرض ہے)اور یہ جملہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا“۔(شعب الایمان للبیہقی)
یہ حدیث پڑھ کر میں پریشان ہو گئی ہوں کہ کہیں میں اپنی والدہ کی حق تلفی تو نہیں کر رہی اور میں اس وعید میں تو داخل نہیں ہوتی؟
کیونکہ میں شادی شدہ عورت ہوں، میری شادی کو 8سال ہو گئے ہیں، اب مسئلہ ایساہے مفتی صاحب کہ میری والدہ اور میرے میاں صاحب کے درمیان پہلے بھی ماضی میں کئی دفعہ لڑائیاں ناچاقیاں ہوئی ہیں، جس میں میری والدہ قصور وار تھیں، میری والدہ نے میرے میاں صاحب کے ساتھ نامناسب رویہ رکھا اور تلخ کلامی بھی کی، لیکن پھر میری والدہ نے میرے میاں صاحب سے معافی تلافی کرلی اور معاملات درست ہو گئے، لیکن اس دفعہ دوبارہ میری والدہ اور میاں صاحب کے درمیان فون پر بدمزگی پیدا ہوئی اور میری والدہ نے دوبارہ میرے میاں صاحب کے ساتھ سخت جملے بولے ہیں، جس پر میرے میاں صاحب کا دل دوبارہ دُکھا ہے، میرے میاں صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ ”آپ کی والدہ ہیں، آپ جا کر اپنی والدہ سے مل لیں، لیکن فی الحال میں نے نہیں جانا ملنے، کہیں کسی کے گھر، کسی کی شادی بیاہ کی تقریب یا کسی کے گھر اجتماعی ملاقات ہو گئی تو میں مل لوں گا، سلام دعا کر لوں گا ،لیکن جب تک آپ کی والدہ کو احساس نہیں ہو جاتا کہ انہوں نے میرے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا ہے اور وہ آئندہ ایسے نہیں کریں گی، جبکہ مجھے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ وہ میری ساس ہیں اور میری بڑی ہیں اسی لئے میں ان سے معافی نہیں منگوانا چاہتا کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں ،لیکن میں اتنا ضرور چاہتا ہوں کہ انہیں اس بات کا احساس ہو کہ انہوں نے میرے ساتھ تلخ کلامی کی ہے اور وہ آئندہ نہیں کریں گی، تب تک ملنے جلنے کے حالات معمول پر نہیں آ سکتے“۔
اب دوسری طرف جب میں نے اپنی والدہ سے سارا واقعہ پوچھا تو میری والدہ کی کہانی میرے میاں صاحب سے بلکل ہی مختلف تھی، میری والدہ کہتی ہیں کہ” داماد صاحب نے بھی مجھ سے سخت جملے کہے ہیں، داماد صاحب کا رویہ میرے ساتھ تلخ تھا اور میرا دل دکھایا ہے، میں نے داماد صاحب سے کوئی نامناسب بات نہیں کی اور نا ہی میرا رویہ غلط تھا“۔ اب مفتی صاحب میں اپنی والدہ اور میاں صاحب کے درمیان پھنس گئی ہوں، مجھے والدہ اور میاں صاحب کا مؤقف سننے کے بعد اور اپنی والدہ کی پچھلے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ میری والدہ قصور وار ہیں دوبارہ، کیونکہ میری نانی نے میری والدہ کو فون کرنے سے پہلے دیکھا اور فون بند ہو جانے کے بعد دیکھا، تو میری والدہ غصے میں تھیں، لیکن میری نانی نے میری والدہ اور میاں صاحب کے درمیان گفتگو نہیں سنی کہ میری والدہ فون لے کر کمرے میں چلی گئی تھیں، اس سارے مسئلے میں میرے والد صاحب بھی کوئی کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ مفتی صاحب اب میں اپنے والد، والدہ، بھائیوں سے نہیں مل رہی، لیکن ٹیلیفون پر بات ضرور کر رہی ہوں، لیکن میں اپنے والدین کے گھر نا تو جا رہی ہوں اور نا ہی ان کو اپنے میاں صاحب کے گھر بلا رہی ہوں، میری والدہ نے کئی بار میرے ساتھ فون پر بات کی ہے اور مجھ سے نہ ملنے کا شکوہ کیا ہے اور نہ ملنے کی وجہ سے اپنی تکلیف کا اظہار کیا ہے، تو میں نے اپنا مؤقف کئی بار انکو بتایا ہے کہ ”آپ میرے میاں صاحب سے صرف اتنا کہہ دیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ انشاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔“لیکن میری والدہ میرے میاں صاحب سے اتنی بات کرنے کے لئے بھی راضی نہیں ہیں۔
سوال:۱۔ مفتی صاحب میں اپنے میاں صاحب کا ساتھ دے رہی ہوں اور اپنی والدہ کو احساس دلانے کی وجہ سے ان سے نہیں مل رہی۔ کیا میں شرعی طور پر غلط کر رہی ہوں؟ یا مجھے اس واقعے کے باوجود والدین سے ملتے رہنا چاہئیے ، جبکہ میرے میاں صاحب اس وقت تک ملنے پر راضی نہیں جب تک میری والدہ کو احساس نہیں ہو جاتا کہ انہوں نے تلخ کلامی اور سخت رویہ اختیار کیا ہے۔
۲۔ نہ مل کر کیا میں اپنی والدہ کی شرعی طور پرحق تلفی کر رہی ہوں؟
۳۔ اپنی والدہ سے نہ مل کر کیا میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر رہی ہوں اور آخرت میں پکڑ ہوگی اس پر؟
۴۔میں اپنی والدہ کی بات مانوں کہ وہ سچ بول رہی ہیں یا اپنے شوہر کی بات مانوں کہ وہ سچ بول رہے ہیں؟ جبکہ ماضی کے واقعات کو مدنظر رکھوں اور ابھی کے واقعہ میں اپنی نانی کی بات ذہن میں رکھوں تو میرے دل میں یہی آتا ہے کہ میرے میاں صاحب سچ بول رہے ہیں۔مفتی صاحب !س مسئلے کا شرعی حل بھی بتائیے اور اخلاقی حل بھی۔
سائلہ کے شوہر اور والدہ کے درمیان حالیہ واقعہ میں ہونے والی تلخ کلامی میں غلطی جس کی بھی ہو، لیکن سائلہ کے شوہر کو چونکہ سائلہ کا اپنی والدہ سے ملنے پر اعتراض نہیں اور نہ ہی وہ اُسے اپنی والدہ سے ملنے سے روکنا چاہتا ہے، جبکہ اس مسئلہ کے حل کے لئے والدہ سے قطعِ تعلقی کرنا، ملنے جلنے کو موقوف کرنا بھی کوئی ضروری معلوم نہیں ہوتا، بلکہ والدہ کے ساتھ مل کر انہیں مناسب طریقہ سے اپنے رویہ پر نظرِ ثانی کرنے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے، اس لئے سائلہ کا والدہ کی تمنا کے باوجود ان سے نہ ملنا اور ان کی دل شکنی کاباعث بننا قطعاً غلط اور نامناسب طرزِ عمل ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہگار ہورہی ہے، جس پر اُسے والدہ سے دست بستہ معافی اور آئندہ کے لئے اس طرزِ عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے، نیز سائلہ کو چاہیئے کہ موقع بموقع والدہ سے ملتی رہا کرے، اور اپنے شوہر کے اعتماد کو بھی بحال رکھنے کی پوری کوشش کرے، اللہ رب العزت کی ذاتِ عالی سے قوی امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہوجائے گا۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعن المغيرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات و وأد البنات ومنع وهات. وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال» . متفق عليه اھ
وفی حاشیتہ: «إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات» ) أي: مخالفتهم من العق، وهو القطع والشق المراد صدور ما يتأذى به أحد الوالدين من ولده عرفا بقول أو فعل، وخص الأمهات بالذكر للاهتمام بشأنهن وضعفهن الخ ( کتاب الآداب باب البر والصلۃ ج 8 ص 651 ط: حقانیہ)۔
وفیہ ایضاً: وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة، وإن كان واحدا فواحدا، ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن كان واحدا فواحدا " قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: " وإن ظلماه، وإن ظلماه، وإن ظلماه» ".اھ
وفی حاشیتہ: أي: في حقهما. وفيه: أن طاعة الوالدين لم تكن طاعة مستقلة، بل هي طاعة الله التي بلغت توصيتها من الله تعالى بحسب طاعتهما لطاعته، وكذلك العصيان والأذى، وهو من باب قوله تعالى: {إن الذين يؤذون الله ورسوله} [الأحزاب: 57] ، ذكره الطيبي. قلت: ويؤيده أنه ورد: " «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» الخ ( ج 8 ص 678 ط: حقانیہ )۔
وفیہ ایضاً: وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات» اھ ( ج 8 ص 679 ط: حقانیہ)۔