میرے والد نے میری بیمہ پالیسی کروائی تھی، جس کی سالانہ قسط 3100 روپے تھی، جو 21 سال کے لئے 65100روپے تھے، 21 سال ہونے پر اسٹیٹ لائف کی جانب سے 100000ایک لاکھ روپے ملے ہیں، امی نے مجھے وہ رقم دیدی، کیا میرے لئے پوری رقم حرام ہے؟ یا 65100 روپے حلال ہے، اور باقی حرام ہے؟
واضح ہوکہ مروجہ انشورنس سود، قمار ، اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہذا سائل کے والد نے 21 سال میں جتنی قسطیں جمع کروائی تھیں، سائل کے لئے صرف اتنی رقم اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے، جبکہ زائد رقم بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کرنا لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی یٰا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ (المائدة:90)۔
وفی الصحیح لمسلم ؛ عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء (ج3،ص 1219، ط: ط: دار احیاءالتراث)۔
وفی تفسیر القرطبی :{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}
الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك الخ (ج2، ص337،ط: دار الکتب المصریۃ)۔
وفی رد المحتار :ویردونہا علی اربابہا ان عرفوھم والا تصدقوا بہا لان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ اھ 0ج6، ص385، ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1