سود

والد کی جانب سے کی گئی بیمہ پالیسی کی ملی ہوئی رقم کا حکم

فتوی نمبر :
71323
| تاریخ :
2024-02-28
معاملات / مالی معاوضات / سود

والد کی جانب سے کی گئی بیمہ پالیسی کی ملی ہوئی رقم کا حکم

میرے والد نے میری بیمہ پالیسی کروائی تھی، جس کی سالانہ قسط 3100 روپے تھی، جو 21 سال کے لئے 65100روپے تھے، 21 سال ہونے پر اسٹیٹ لائف کی جانب سے 100000ایک لاکھ روپے ملے ہیں، امی نے مجھے وہ رقم دیدی، کیا میرے لئے پوری رقم حرام ہے؟ یا 65100 روپے حلال ہے، اور باقی حرام ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مروجہ انشورنس سود، قمار ، اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہذا سائل کے والد نے 21 سال میں جتنی قسطیں جمع کروائی تھیں، سائل کے لئے صرف اتنی رقم اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے، جبکہ زائد رقم بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی یٰا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ (المائدة:90)۔
وفی الصحیح لمسلم ؛ عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ‌وموكله، ‌وكاتبه، ‌وشاهديه، وقال: هم سواء (ج3،ص 1219، ط: ط: دار احیاءالتراث)۔
وفی تفسیر القرطبی :{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}
الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، ‌والمعنى: ‌لا ‌يأكل ‌بعضكم ‌مال ‌بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك الخ (ج2، ص337،ط: دار الکتب المصریۃ)۔
وفی رد المحتار :ویردونہا علی اربابہا ان عرفوھم والا تصدقوا بہا لان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ اھ 0ج6، ص385، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71323کی تصدیق کریں
0     619
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات