میرے دادا اور والد کا کاروبار ہے اور وہ بینکوں سے کچھ قرض لینا چاہتے تھے جن کا مقصد نوجوان کاروباری افراد تھے۔ تو اس نے مجھے، میرے بھائی اور میرے کزن کو ڈائریکٹرز بنایا اس کے بعد انہوں نے ایک اسکیم کے ذریعے بینکوں سے مقررہ مارک اپ ریٹ پر قرض کے لئے درخواست دی اور ہم سے اس پر دستخط کرنے کو کہا۔ میں بہت قدامت پسند مسلمان ہوں اور اس کو جائز نہیں سمجھتا۔ لیکن دستخط کرنے سے پہلے کا منظر نامہ اس طرح پیش کیا گیا کہ میرے پاس نہ کہنے کا کوئی آپشن نہیں تھا اور مجھے دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔ کیا میں ایسا کرنے سے گناہ گار ہوا؟ وہ ہمیشہ یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے انہیں قرض نہیں ملنے پر کاروبار ڈوب جائے گا۔ کب اور کہاں کوئی نہ کہے اور میں گناہ گار کیوں ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ اس کو حرام سمجھا اور رضامندی سے دستخط نہیں کیے ۔
واضح ہو کہ اگر کسی کے پاس کاروبار کے لئے رقم نہ ہو تو اس کے لئے سودی قرض لیکر کاروبار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں کاروبار کرنے کیلئے سائل کے دادا اور والد کا بینک سے سودی قرض لینا اور معلوم ہونے کے باوجود بغیر شرعی عذر کے اس کے متعلق کاغذات پر سائل کا دستخط کرکے تعاون کرنا ناجائز اور حرام ہے ، جس کی وجہ سے سائل بھی سخت گناہ گار ہوا ہے،لہذا سب پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ اس طرح کے معاملات سے اجتناب کرنا لازم ہے، البتہ سودی قرض لیکر جو جائز کاروبار اب تک کیا ہے ، وہ حلال ہے۔
کما فی صحیح مسلم:عن جابر بن عبد اللہ قال: لعن رسول اللہﷺآکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء الحدیث(ج 2 ص 27)۔
وفی الدر المختار:کل قرض جر نفعا فھو حرام الخ(ج 5 ص 166)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1