السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !ایک مسئلہ ہے مفتی صاحب، یہ دریافت کرنا تھا کہ ایک عورت نے اپنے شوہر سے خلع لیا ہے اور کورٹ نے یہ کہا ہے کہ اگلی پیشی پر آپ نے جو سونا مہر کی شکل میں لیا ہے وہ لے کر آئیں اور اس کے ساتھ ایک اقرار نامہ لے کر آئیں جس کے اوپر شوہر سے دستخط لیا جائے گا کہ ہم نے ان کو اتنا سونا جتنا مہر کا بنتا ہے دیا ہے ،تو شوہر کا کیا اس اقرار نامے پر سائن کرنا یا اس کا اس سونے پر قبضہ کرنا خلع کے لیے کافی ہے یا اس کاقولا اقرار کرنا ضروری ہے؟
سائل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اقرار نامے کا متن کیا ہے؟ تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر اقرار نامہ میں واضح الفاظ کے ساتھ عورت کا خاوند سے حق مہر کے عوض خلع لینے کا ذکر ہو اور شوہر نے مکمل ہوش و حواس میں بلا کسی جبر و اکراہ اس پر دستخط کردیئے تو اس سے بھی خلع درست ہو کر بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی ، اس کے بعد زبان سے اقرار ضروری نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا الآیۃ (آیتـ 20 سورۃ النساء)
وفی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دارالکتب العلمیۃ)
وفیہ ایضاً: (اکرھھا) الزوج (علیہ تطلق بلا مال) لأن الرضا شرط للزوم المال وسقوطہ الخ (کتاب الطلاق باب الخلع ج 3 صـ 446 ط: سعید)
وفی المبسوط: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض الخ (کتاب الطلاق باب الخلع ج 6 صـ173 ط: دار الکتب العلمیۃ)