السلام علیکم
حضرت ! میرا ایک سوال ہے ،میرا نکاح ہوا تھا ، رخصتی نہیں ہوئی ، دو ہفتہ بعد ہی شوہر نے بولا کہ انہیں مجھے نہیں رکھنا اور بلاک کر دیا ، میرے گھر والے ان کے گھر گئے بات کے لئے ، انہوں نے بولا کہ ہمارے بیٹے کو نہیں رکھنا اور خود کورٹ سے جا کر خلع لے لیں، میں نے کورٹ سے خلع لے لی ہے ، تو کیا خلع ہو گئی ہے ؟ لڑکے نے منہ سے طلاق نہیں بولا، لیکن یہ بولا کہ مجھے نہیں رکھنا ، آپ نے خلع لینا ہے تو لے لیں , بیٹھنا ہے تو بیٹھ جائیں میرا کوئی واسطہ نہیں ،کیا میں دوسری جگہ شادی کرسکتی ہوں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں نہیں پائی جاتی، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے یا اس کے وکیل نے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہوں تو مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور بر قرار ہے، لہذا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر سائلہ کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر شوہر اس رشتہ کو باقی نہیں رکھنا چاہتا ہو تو اس کو کسی طرح طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ عورت اپنے مستقبل کے بارے میں آزادنہ فیصلہ کر سکے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3، ص 153) ۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة و يستحق عليها العوض الخ (ج 3، ص 453، ادارۃ القرآن)۔