اسلام علیکم! فتوی نمبر 37167 میں سائل نے پوچھا کہ اگر کسی کی ماں مر جائے اور یہ کہے کہ وہ نہیں اللہ کو مانتا کیونکہ اس کی ماں مر گئی، تو آپ نے کہا کہ کہنے والا کافر ہے، لیکن فتوی نمبر 12665 میں سائل نے پوچھا امام کے بارےمیں جس نے جھگڑے کے دوران غصے سے کہا ''میں کافر ہوں، تم کیا کر لو گے''، تو آپ نے کہا کہ کہنے والا کافر نہیں ، کیونکہ اس کا مقصد مخالف کو خاموش کرنا تھا۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ایک صورت میں کیوں کافر ہے اور دوسری صورت میں نہیں حالانکہ دونوں نے کافر ہونے کا دعوٰی کیا ہے، اگر کوئی مذاقا بھی کافر ہونے کا دعوٰی کرے تو کافر ہوتا ہے، تو دوسری صورت میں کیوں کافر نہیں؟ اگر کوئی کفریہ الفاظ کہے تو کیا عوام کے لیے اتنا کافی ہے کہ بتائے کہ یہ الفاظ کفریہ ہیں یا فرد کی تکفیر بھی لازم ہے؟ اگر نہیں پتا کہ قائل کافر ہو گیا ہے اور اس وجہ سے عوام تکفیر نہ کرے، کیا وہ بھی کافر ہیں؟ عوام کب تکفیر کرے؟ کفریہ الفاظ کی تفصیل اور علماء میں اختلاف سمجھا دیں گے؟ جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ اُن الفاظِ کفریہ کی مکمل تفصیل، جن کے استعمال کرنے سے کفر ثابت ہو اور استعمال کرنے والے پر کفر کا حکم لگے، کسی فتوی میں جمع کرنا دشوار ہے، تاہم اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ کسی شخص کے الفاظ میں اگر اللہ تبارک و تعالی کی ذات وصفات میں سے کسی کا انکار، استہزاء یا استخفاف ہو، یا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی یا ان کے اقوال و افعال میں کسی کا انکار، توہین یا گستاخی ہو، یا ضروریاتِ دین( جو چیزیں آپ ﷺ سے بذریعہ تواتر اس درجہ شہرت و بداہت کے ساتھ ثابت ہوں کہ ہر خاص و عام اس سے واقف ہو ) میں سے کسی چیز کا انکار ہو ، یا دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا مقصود ہو، یا دین کے کسی قطعی اور یقینی حکم میں ایسی تاویلات باطلہ کرنا جو ان کے اجماعی مفہوم کو بدل دیں ، اور امت کے اجماعی عقائد کے خلاف کوئی نیا مفہوم ان سے پیدا ہوتو اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے کفر لازم آتاہے۔
جبکہ تکفیرِ مسلم کے بارے میں ضا بطۂ شرعیہ یہ ہے کہ کسی شخص کے کلام میں اگر تاویل صحیح کی گنجائش ہو اور اس کے خلاف تصریح متکلم کے کلام میں نہ ہو یا اس عقیدہ کے کفر ہونے میں ادنی سے ادنی اختلاف ائمہ مجتہدین میں واقع ہو، تو اس وقت اس کے کہنے والے کو کافر نہیں کہا جائیگا، لیکن اگر کوئی شخص ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا کوئی ایسی تاویل و تحریف کرے جو اس کے اجماعی معانی کے خلاف معنی پیدا کرے تو اس شخص کے کافر ہونے میں کوئی تامل نہیں کی جائیگی ، تاہم کسی مسلمان کو کافر یا کافرکو مسلمان کہنا دونوں جانب سے نہایت ہی حساس معاملہ ہے، سلفِ صالحین صحابہ وتابعین اور مابعد کے ائمہ مجتہدین نے اس معاملہ میں بڑی احتیاط سے کام لینے کی ہدایتیں فرمائی ہیں، حضراتِ متکلمین نے اس باب کو نہایت اہم اور دشوار گزار سمجھا ہے اور اس میں داخل ہونے والوں کیلئے بہت زیادہ تیقظ و بیداری کی تلقین فرمائی ہے، اسی طرح جو شخص اسلام ظاہر کرے تو جب تک اس کے کفر کی پوری تحقیق نہ ہوجائے اس کو کافر کہنا ناجائز اور وبال عظیم ہے، اس لئے کسی کے قول و فعل پر اس کی تطبیق صرف ماہر اہلِ فتوی ہی کا کام ہے، عوام کیلئے از خود فیصلہ کرنا یا پھر کسی کو کافر قرار دینا ہر گز جائز ودرست نہیں اور نہ ہی عوام کی تکفیر نہ کرنے کی وجہ سے وہ کافر ہوجاتے ہیں۔
لہذا مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو دونوں فتاوی میں بظاہر کوئی تعارض نہیں کیونکہ پہلے فتوی ( 37167) میں مذکور شخص نے جو الفاظ ” اللہ کی قسم میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا کسی چیز کو “ استعمال کئے ہیں، اس میں صراحۃً اسلام سے براءت کا اظہار و اقرار ہے، اور اس کلام میں تاویل صحیح کی گنجائش بھی نہیں، اس لئے اس کے قائل پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے اور ایمان و نکاح کے تجدید کاحکم لگایا گیا ہے، جبکہ دوسرے فتوی ( 12665) میں مذکور مولوی صاحب نے جو الفاظ” ہاں میں کافر ہوں، تم کیا کرسکتے ہو“ کسی دوسرے شخص کے غصہ دلانے اور اسے صحیح العقیدہ نہ ہونے کا الزام لگانے پر، استعمال کیے ہیں،اگرچہ مذکور مولوی صاحب کا اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرنا درست نہ تھا اور اس میں بظاہر اسلام سے براءت کا اظہار بھی معلوم ہو رہا ہے، مگراس میں اس تاویل کی گنجائش ہے کہ اس نے حقیتاً کفر کا اقرار نہیں کیا بلکہ مقابل کو چھپ کرانے کی غرض سے یہ الفاظ کہےتھے جیساکہ عام حالات میں یہی مقصود ہوتاہے، اس لئے مذکور جملہ کو اس تاویل پر محمول کرتے ہوئے اس کے ایمان و نکاح کو برقرار رہنے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔
کما قال اللہ تعالی: یا أیھا الذین آمنوا إذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا ولاتقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا تبتغون عرض الحیاۃ الدنیا فعند اللہ مغانم کثیرۃ کذلک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا ان اللہ کان بما تعملون خبیرا(النساء:94)۔
وفی صحیح مسلم: عن عبد اللہ بن دینار أنہ سمع ابن عمر رضی اللہ عنہ یقول: قال رسول اللہ ﷺ : ((أیما امرئ قال لأخیہ: کافر، فقد باء بھا أحدھما إن کان کما قال، وإلا رجعت علیہ إلخ( کتاب الإیمان، باب بیان حال إیمان من قال لأخیہ المسلم یاکافر، ج:1، ص: 116، ط: البشری )۔
وفی التاتارخانیۃ: إذا وصف اللہ بما لایلیق بہ، أو سخر باسم من أسماء اللہ، أو بأمر من أوامرہ، أو أنکر وعدہ، أو وعیدہ یکفر إلخ( کتاب أحکام المرتدین، ج: 7، ص: 285، ط: رشیدیۃ )۔
وفیھا أیضاً: من لم یقر ببعض الأنبیاء أو عاب نبیا بشئی، أو لم یرض بسنۃ من سنن المرسلین علیھم السلام فقد کفر إلخ(کتاب أحکام المرتدین، ج: 7، ص: 300۔301، ط: رشیدیۃ )۔
وفی الھندیۃ: من أنکر المتواتر فقد کفر ومن أنکر المشھور یکفر عند البعض وقال عیسی بن أبان یضلل ولایکفر وھو الصحیح إلخ( الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج: 2، ص: 265۔ ط: ماجدیۃ )۔
وفیھا أیضاً: ومن أتی بلفظۃ الکفر وھو لم یعلم أنھا کفر إلا أنہ أتی بھا عن اختیار یکفر عند عامۃ العلماء خلافا للبعض ولا یعذر بالجھل کذا فی الخلاصۃ، الھازل أو المستھزئ إذا تکلم بکفر استخفافا واستھزاء ومزاحاً یکون کفرا عند الکل وان کان اعتکاءہ خلافا ذلک إلخ(الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج: 2، ص: 276، ط: رشیدیۃ )۔