السلام علیکم ! میری بیوی تقریباً ایک مہینے پہلے ناراض ہو کر اکلوتی بیٹی کو لے کر گھر چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی، میں اس کو منانے کی پوری کوشش کر رہا ہوں، مگر وہ مان نہیں رہی ، اور مجھے کورٹ کا نوٹس بھیجا ہےخلع کا ، کیا میری بیوی اس طرح کوٹ سے میری رضامندی کے بنا خلع لے سکتی ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً عدالتی یکطرفہ خلع میں مفقود ہوتا ہے ، لہذا سائل کی بیوی نے اگر سائل یا اسکے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کرلی تو اس یکطرفہ خلع کی ڈگری سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوگا، بلکہ وہ بدستور بر قرار ہے۔ لہذا سائل کی بیوی کا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3، ص 153) ۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (ج 3، ص 453، ادارۃ القرآن)۔