السلام عليكم!
میری عمر 23 سال ہے اور میں میڈیکل ہونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ کافی عرصے سے یہ ایک مسئلہ بنا ہوا ہے جس نے شدید پریشان کیا ہوا ہے۔ اپنے تحت ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے۔ لیکن پے در پے ناکامیوں نے ہمت توڑ دی ہے۔ مسلسل شدید ناکامی کے سبب سوچا کہ شاید کسی سے اس پر کوئی معاونت لینی چاہیے۔ واقعہ کچھ ایسے ہے کہ بلوغت کے آغاز ہی سے غضِ بصر، مخالف صنف سے کلیتاً اعراض اور منکرات سے دور رہنے کا ایک ماحول اور رجحان رہا ہے۔ اور اللہ نے ان عادات سے محفوظ رکھا جن کا میری عمر کے بہت سے لڑکے شکار ہوئے اور بعونہ تعالی دینی علوم اور اسی سے منسلک دیگر معاملات کا شغف بھی رہا، یونیورسٹی میں آنے کے بعد جب بہت سے دینی مزاج رکھنے والے لوگوں کو شہوات کی راہ اختیار کرتے دیکھا تو ایک پریشان کن کیفیت نظر آئی۔ لیکن محض اللہ کے فضل و نعمت کے سبب اپنے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوا اور بیشتر عرصہ اپنے دامن کو تمام تر خبائث سے محفوظ رکھنے میں اللہ کی جانب سے اعانت کے سبب کامیابی ہوئی۔ معاملہ کچھ ایسے ہے کہ آج سے قریب دو سال قبل مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا تھا، اور وہ فحش ناول/لٹریچر پڑھنے کا معاملہ تھا۔ پہلی بار جب ہوا تو شدید پریشان کن بات تھی، توبہ کی طرف آیا اور کچھ عرصہ اس گناہ سے مکمل دور رہا۔ البتہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد دوبارہ سے وہی سرزد ہو گیا۔ پھر یہ سلسلہ اسی طرح شروع ہو گیا۔ بہت مرتبہ انتہائی پختہ انداز میں توبہ کرنے کے بعد دوبارہ اس میں مبتلا ہونے کے عمل نے ہمت کو توڑ دیا تھا۔ اس گناہ کے تمام ذرائع بھی ترک کرنا شروع کیے، اذکار میں بھی اضافہ کرنے کی کوشش کی، نوافل کی تعداد بڑھ گئی، مسلسل کئی دن روزے رکھنے کا عمل بھی شروع ہوا اور مسلسل دعا بھی رہی کہ یہ عمل مجھ سے دور ہو جائے۔ یہاں تک نوبت پہنچ آئی کہ محسوس ہونے لگا کہ شاید اب جان چھوٹ چکی ہے، لیکن پھر ایک دن دوبارہ سرزد ہو گیا۔ ہر حربہ، تدبیر اور طریقہ آزما کر دیکھا، لیکن ناکامی ہوئی۔ جب بھی توبہ کرتا تھا ارادہ بہت مضبوط ہوتا تھا اور لگتا تھا کہ دوبارہ کبھی نہیں ہوگا، لیکن اس مسلسل ناکامی نے میرے عزائم کو بھی کھوکھلا کر دیا۔ حالات یہاں تک آ پہنچے کہ خود سے شدید نفرت ہونا شروع ہو گئی، گمان ہوا کہ شاید میرا کچھ نہیں ہو سکتا، یہاں تک وسوسے آئے کہ شاید کسی عمل کی وجہ مجھ پر سے راہ راست کو روک لیا گیا ہے (والعیاذ باللہ تعالٰی)
{ كمثل الشيطان إذ قال للإنسان اكفر} والی کیفیت بھی طاری ہوئی لیکن پھر { لا ملجأ من الله إلا إليه} کو ذہن نشین کرتے ہوئے دوبارہ سے عزم کیا، اپنے آپ کو روحانی طور پر مضبوط کرنے کی ٹھانی اور شدید کوشش شروع کردی، روزانہ کی بنیاد پر کچھ اقدامات کو اپنے اوپر لازم کر لیا اور روز توبہ کی تجدید کا عمل شروع کیا، اپنے آپ کو شدید گرمی/سردی، شدید بھوک/فاقہ کشی اور بے خوابی کی سختیوں سے گزارا۔ کچھ ہفتے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے، لیکن پھر بس ایک دن جب تھوڑا سا غافل ہوا ہی تھا تو شیطان نے ایک شدید حملے کے ساتھ آلیا اور اپنا عزم اور محنت پانی پانی ہو گئے! دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔ خیال آیا کہ کس منہ سے توبہ کروں؟ اتنی بار تو اپنا عزم ٹوٹ چکا ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ میں اپنے عزم اور توبہ میں مستقل رہ سکوں گا؟ استقلال تو دور دور تک نظر نہیں آتا۔ توبہ کرتے وقت وساوس میں شیطان تمسخر اڑاتا سنائی دیتا تھا۔ "دیکھ لیں گے تمھارا عزم!"، "کس کو دھوکہ دے رہے ہو؟"، اکثر تو اپنے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں کہ اب کن الفاظ میں توبہ کروں؟ توبہ کی شرائط میں تو یہ پختہ عزم بھی شامل ہے کہ گناہ دوبارہ نہیں ہوگا لیکن اب تو یہ عزم کرنا بھی دشوار سا ہو گیا ہے۔ پھر سوچا شاید رمضان کی برکات سے اس کا تدارک ہو جائے اور اس پر عمل درامد بھی کیا۔ لیکن پھر بھی قائم نہ رہ سکا، اور رمضان کے تقدس کا خیال نہ رکھنے کا اضافی بوجھ اپنے اوپر آگیا جس سے شدید رنج میں مبتلا کر دیا۔ اپنے آپ پر سے تمام اعتماد ختم ہو گیا۔
لیکں اور کیا ہی کیا جا سکتا تھا؟ دوبارہ سے عزم کیا، اور بالآخر کئی ماہ کے لیے اس عمل سے دوری ہو گئی۔ اسی دوران سوچا کہ شاید فوری نکاح کر لینا ہی بہتریں اور دائمی حل ہے۔ اس کے لیے کوشش شروع کی، اور معاملات طے بھی پا گئے، البتہ ڈگری اور مستقل نوکری سے قبل کوئی نکاح پر راضی ہی نہیں۔ بس دعا جاری رکھی اور اپنا دامن گناہ سے بچانے کی کوشش بھی جاری رہی۔ لیکں تقریباً 4-5 ماہ کامل اور کامیاب احتراز کے بعد جب اقدامات میں تسہل کا شکار ہوا تو دوبارہ شیطانی حملے کے آگے ناتواں ٹھہرا۔ البتہ دوبارہ عزم کیا اور کچھ ماہ مزید محترز رہا، لیکن یہ احتراز بھی دائمی ثابت نہ ہوا اور سابقہ کیفیت واپس لوٹ آئی۔
محسوس ہوتا ہے کہ شاید میری اس گناہ کو کرتے وقت کی شخصیت اور اس کے علاوہ کی شخصیت ہی الگ ہوتی ہے اور فکری سطح ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اللہ کی پکڑ کے خوف سے عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور لگتا ہے کہ شاید بچنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہی، عزم کروں بھی تو کیسے کروں؟ ہر جانب اندھیرا سا نظر آتا ہے۔ بس اسی ناامیدی اور شدید پریشانی میں دن گزر رہے ہیں۔ سکون مفقود ہوچکا ہے۔ توبہ کروں کبھی تو کچھ عرصہ وہ سکون واپس آجاتا ہے۔ لیکن پھر جب وہ عزم ٹوٹ جائے تو سب ختم ہو جاتا ہے۔ اب تو کوئی راہ نظر نہیں آرہی۔ جتنی شدید اس عمل سے نفرت ہے، اتنی ہی شدت سے وہ مجھے لاحق ہو گیا ہے۔ ہر حل اور راستہ بند ہوتا نظر آرہا ہے۔ اور اپنے آپ سے شدید نفرت ہو چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ حدیث مبارکہ میں سات قسم کے لوگوں کا بیان ہے جو قیامت والے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ ان میں سے ایک وہ نوجوان بھی ہے جو اللہ کی بندگی میں پروان چڑھے۔ اس کے مصداق میں کیا شامل ہے؟ اور کیا یہ قبیح قعل میں بار بار مبتلا ہونا مجھے اس سے کلیتا محروم کر دے گا؟ اس کے علاوہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کی کیا رائے ہے؟ اس شدید رنج اور پریشانی کا کیا علاج ہے؟ اور جہنم کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟
دین اسلام میں مایوسی کی گنجائش نہیں ہے، انسان خطا کا پتلا ہے، گناہ انسان کی فطرت میں داخل ہے، لیکن بہترین انسان وہ ہے جو گناہ کےبعد توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے۔ توبہ کرنے کے بعداگر دوبارہ گناہ سرزد ہوجائے تو دوبارہ توبہ کرلے، خواہ دن میں ستر مرتبہ گناہ ہوجائے، پھر ندامت و پشیمانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں، اور ہر مرتبہ توبہ کرتے وقت سچی ندامت ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔جبکہ گناہ پر پشیمانی حیاتِ ایمانی کی علامت ہے، اور توبہ کی اولین شرط یہی ندامت و پشیمانی ہے، حدیث شریف میں ندامت کو ہی توبہ کہا گیا ہے،اگر کوئی شخص اسی ندامت کے ساتھ گناہ کرنا چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی توبہ قبول فرما کر اس کو معاف فرما دیتے ہیں،بلکہ توبہ کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب بن جاتا ہے۔
اس لیے سائل کوچاہیے کہ وہ مایوس نہ ہوبلکہ بارباراللہ تعالی سے پیشمانی کے ساتھ اپنے گناہوں پرمعافی مانگتارہےاورجلدازجلدشادی کی ترتیب بنائے اورجب تک نکاح کابندوبست نہیں ہوجاتااس وقت تک اس قسم کے گناہوں کےمواقع فراہم کرنے والی تنہائی اورخلوت گزینی اختیارکرنے اورموبائل کاغیرضروری استعمال ترک کرتےہوئے نیک لوگوں کی ہمنشینی اورمجالس میں بیٹھنے کااہتمام کرے،ایساکرنے سے امیدہے کہ ان شاءاللہ گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب ہوگی ۔جہاں تک اس حدیث کاتعلق ہے جس کاحوالہ سائل نے دیاہے اگرچہ اس کاحقیقی اوراوّلین مصداق وہی نوجوان ہے جس نے زندگی بھراپنی تنہائی کوپاکیزگی اورخوف خداکے ساتھ ہرقسم کے گناہوں سے بچاکرگزاراہوتاہم قرآن وحدیث کی دیگرنصوص میں غورکرنےسے یہ معلوم ہوتاہے کہ گناہوں پرصدق دل سےمعافی مانگنے اور توبہ کرنے والابھی اس کامصداق ہوگا۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں توبہ کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں ،جن میں سے چندباترجمہ ذکرکیے جاتے ہیں،ملاحظہ ہو:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ بواسطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گناہ گار بندوں سے ارشاد فرماتے ہیں:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ‘‘ [الزمر:53]
ترجمہ: کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ (18) یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
اسی طرح توبہ کرکے بندہ اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب بن جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَ یُحِبُّ المُتَطَهِّرِینَ‘‘ [البقرة:222]
ترجمہ: بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
عن أنس، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: "كل بني آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون (کتاب :سنن ابن ماجہ ،باب ذكر التوبة،ص:321،ج:5،ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ :’’ہر بنی آدم (انسان) بہت زیادہ خطا کار ہے، اور (لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک) بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں۔
صحیح مسلم ميں هے :
"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون، فيستغفرون الله فيغفر لهم۔"(باب سقوط الذنوب بالاستغفار توبة،ص:2106،ج:4،ط:مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو، البتہ اللہ تعالیٰ تم کو فنا کر دے اور ایسے لوگوں کو پیدا کرے جو گناہ کریں، پھر اس سے بخشش مانگیں اور اللہ تعالیٰ بخشے ان کو۔“
سنن ابن ماجہ میں ہے :
"عن أبي عبيدة بن عبد الله عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم -: التائب من الذنب كمن لا ذنب له"(کتاب : سنن ابن ماجہ ، باب ذكر التوبةص320،ج5،ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ :’گناہ سے (صدقِ دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک و صاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘