السلام علیکم! سوال یہ ہے کے ایک آدمی کے 2 بچے بالترتیب 4 اور1 سال کی عمر کے ہیں اور انکی والدہ اور بچے بھی نہایت کمزور ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی اب دوبارہ حمل ہو گیا ہے جوکے 40 دن کا ہے، کیا اس حمل کو گرایا جاسکتا ہے؟ شریعت کا حکم کیا ہے ؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ بلاضرورت اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو، مثلاً عورت بہت زیادہ کمزور یا کسی دائمی مرض میں مبتلا ہو یا وضع حمل کے دوران عورت یا بچہ کی جان کو خطرہ یقینی ہو اور مسلمان ماہر ڈاکٹر اسقاطِ حمل کی تجویز دے تو ایسی مجبوری کی صورت میں حمل میں جان پڑنے سے پہلے پہلے (چار ماہ سے قبل) اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، لیکن چار ماہ کے بعد کسی بھی صورت میں اسقاطِ حمل جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص کی بیوی اگر واقعۃً کمزور ہوں جس کی وجہ سے اس کو یا حمل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ یقینی ہو یا حمل کی وجہ سے دودھ بند ہوجائے یا اس میں کمی آجائے اور گود کے بچے کے دودھ کا مسئلہ ہو اور کوئی ماہر مسلمان ڈاکٹر اسقاطِ حمل کی تجویز دے تو مذکور شخص کی بیوی کے لئے چار ماہ سے قبل اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، اس کے بعد کسی بھی صورت میں اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی حاشية ابن عابدين: ((قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح. (ج3،ص 176، ط: سعید)۔