اگر کسی پر لگاتار پانچ دن غسل فرض ہوجائے تو جب وہ غسل کرے تو کس طرح کرے ؟ آیا وہ پانچ دن لگاتار غسل کرے یا ایک مرتبہ غسل کرے تو غسل ہوجائے گا؟ جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں
ہر مرتبہ کی ناپاکی کے بعد غسل کرنا شرعاً لازم ہوجاتا ہے اور اس میں اس قدر تاخیر کرنا کہ فرض نمازیں چھوٹ جائیں گناہِ کبیرہ ہے،جس سے احتراز ضروری ہے، اگر کسی نے ہر مرتبہ کی ناپاکی کے بعد غسل نہ کیا ہو حتیٰ کہ وہ مسلسل پانچ دن تک ناپاک ہوتا رہا ہو تو اتنی زیادہ تاخیر کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے،اس پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لئے ایسی غلط حرکت سے مکمل احتراز بھی کرے،تاہم اب اگر وہ صرف ایک مرتبہ ہی غسل کرلے تو یہ بھی کافی ہوجائے گا۔
وفی الدر المختار: (وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو (الیٰ قوله) (بشهوة) أي لذة ولو حكما كمحتلم اھ(1/159)۔
وفیه ایضاً: یکفی غسل واحد لعید وجمعة اجتما مع جىابة کما لفرض جنابة وحیض اھ (1/169)۔