میرے والد نے مجھے جہیز میں گھر بمعہ تمام سامان دیا تھا، شادی کو 17 سال ہو گئے ہیں ،میرا گھر سسرال کے پاس ہی دیا تھا،چند سال پہلے ہم کھارادر سے گرومندر شفٹ ہوگئےہیں ،تین سال پہلے میری ساس کا انتقال ہو چکا ہے، اب میرے سسر اکیلے اپنے فلیٹ میں رہتے ہیں، اب میں اپنے شوہر سے کہتی ہوں، کہ میرا اور سسر کا گھر بیچ کر انھیں اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں، لیکن وہ بضد ہیں کہ نہیں انہیں اکیلے رہنے دو بس ہم انہیں کھانا بھیج دیتے ہیں،جب انھیں ضرورت ہوگی تو وہ ہمارے گھر آ کر رہ لیں گے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرا گھر چھوٹا ہے ،اور ان کے آ نے سے ہمیں بہت پریشانی ہوتی ہے ،نیز یہ کہ میں بھی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں،اور میں چاہتی ہوں کہ ہم ایسی جگہ گھر لیں جو میرے والدین کے پڑوس میں ہو،اور میرے سسر کو ہم اس میں اپنے ساتھ ہی رکھ لیں،تاکہ ہم دونوں ملکر ایک دوسرے کے والدین کی خدمت کر سکیں ،لیکن میرے شوہرکہتے ہیں، میں تمہارے والدین کے پڑوس میں نہیں رہوں گا ، اب ان کے والد کو جب ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنے والد کے پاس چلے جاتے ہیں ،جبکہ میں عورت ہونے کی بنا پر ہر وقت انکی خدمت نہیں کر سکتی، اور اگر میں ان سے کہتی ہوں کہ اب آ پ کے والد بھی میرے گھر نہ آ ئیں ، تو وہ کہتے ہیں کہ میں بھی گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہوں، یہ گھر تمہارا ہے اس لیے تم مجھے بے عزت کرتی ہو، کیا ان کا یہ رویہ صحیح ہے ، میں بہت پریشان ہوں،نیز یہ کہ وہ بڑے سے بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کا موجودہ گھر اگر دو یا اس سے زائد کمروں پر مشتمل ہے،اور ایک کمرہ میں سائلہ مع خاوند، اور دوسرے کمرے میں جب اس کا سسر آئےوہ رہ سکتا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کو چاہیئے کہ اپنے خاوند سے اپنی بات منوانے کے بجائے اس گھر میں خاوند کی رضامندی کو ترجیح دیتے ہوئے گزارہ کر لیا کرے، تاہم سائلہ کے خاوند کو اگر سائلہ کے سوال میں مذکور تجویز ماننے سے تکلیف نہ ہوتی ہوتو سائلہ کے خاوند کو چاہیئے کہ سائلہ کی تجویز پر عمل کرے، تاکہ سائلہ کو بھی حسبِ سہولت اپنے والدین کی خدمت گزاری کا موقع مل سکے،اور سائل کا والد بھی سائل کے ہمراہ زندگی گزار سکے۔
کما فی الدر المختار: (وکذا تجب لھا سکنی فی بیت خال من أھلہ) سوی طفلہ الذی لا یفھم الجماع (إلی قولہ) زاد فی الاختیار والعینی ومرافق ومرادہ لزوم کنیف ومطبخ وینبغی الافتاء بہ بحر (کفاھا) لحصول المقصود ھدایۃ الخ۔
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ وکذا تجب لھا) أی للزوجۃ السکنی أی الاسکان (الی قولہ) (قولہ خال عن أھلہ الخ) لأنھا تتضرر بمشارکۃ غیرھا فیہ لا تأمن علی متاعھا ویمنعھا ذالک من المعاشرۃ مع زوجھا ومن الاستمتاع الا أن تختار ذالک لانھا رضیت بانتقاص حقھا ھدایۃ، (الی قولہ) (قولہ زاد فی الاختیار والعینی) ومثلہ فی الزیلعی وأقرہ فی الفتح بعد ما نقل عن القاضی الامام أنہ اذا کان لہ غلق یخصہ وکان الخلاء مشترکا لیس لھا أن تطالبہ بمسکن آخر الخ (باب النفقۃ، 3، ص599، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع : ومنھا المعاشرۃ بالمعروف وانہ مندوب الیہ ومستحب قال اللہ تعالی وعاشروھن بالمعروف قیل ھی المعاشرۃ بالفضل والاحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبیﷺ خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی وقیل المعاشرۃ بالمعروف ھی ان یعاملھا بما لو فعل بک مثل ذالک لم تنکرہ بل تعرفہ وتقبلہ وترضی بہ الخ (ج2، ص334، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ : تجب السکنی لھا علیہ فی بیٹ خال عن أھلہ وأھلھا إلا أن تختار ذالک کذا فی العینی شرح الکنز الخ (الفصل الثانی فی السکنی، ج1، ص578، ط: ماجدیۃ)۔