کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی فیکٹری کے سیٹھ کے پاس سود کی رقم آتی ہے، اور وہ سیٹھ اُس رقم کو اپنے مزدوروں میں مفت تقسیم کرتا ہے، تو اُس رقم کا مزدورں کے لئے لینا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر اُس رقم کو کوئی مزدور لے لے ،تو پھر اُس رقم کا کیا کرے ،آیا وہ رقم اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسی فیکٹری میں کام کرنا کیسا ہے؟
ایسی فیکٹری میں کام کرنا جائز اور درست ہے، البتہ اس قسم کی رقوم کا ہر ملازم حقدار نہیں، بلکہ واقعی مستحقین کو بلا معاوضہ اور ثواب کی نیت کیے بغیر مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا ضروری ہے، اور مستحق اُسے لینے کے بعد اپنی مرضی سے جہاں چاہے، اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کر سکتا ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر ولو علم الفقير بذلك فدعا له وأمن المعطى كفرا جميعا اھ (2/ 292)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1