کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں (PSO) پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی میں کام کرتا ہوں، (PSO) کمپنی کے منافع سے پانچ فیصد کی رقم ہر سال ایک ٹرسٹ میں رکھی جاتی ہے، جو کچھ عرصہ قبل تک صرف کچھ مخصوص افراد ہی استعمال کرتے تھے، لیکن اب اس رقم میں سے تمام ملازمین کو اصل رقم کا پانچ فیصد دیا گیا ہے،جو کہ ۱۸۴۰۰ روپے کی رقم بنتی ہے، جو کہ ہمیں پہلی قسط کے طور پر ملے تھے جو کہ پرنسپل اماؤنٹ تھی (کاپی منسلک)-
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسری رقم کی قسط بھی دی گئی ہے ،جو کہ ۳۰۲۰۰ روپے بنتی ،ہے یہ رقم اس ٹرسٹ میں رکھی گئی رقم کے انٹرسٹ کا پانچ فیصد شیئر بنتی ہے، جو کہ تمام ملازمین میں تقسیم کی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ دوسری قسط کی رقم جو کہ اصل رقم کے انٹرسٹ میں حصہ تھی ہمارے لیے جائز ہے؟ اگر نہیں تو اس رقم کے مصارف کیا ہو سکتے ہیں؟ کیا میں اپنے کسی عزیز واقارب کو دے سکتا ہوں ؟جو معاشی پریشانی کا شکار ہوں۔
کمپنی کی طرف سے پانچ فیصد منافع رقم ملازمین کے لئے مختص کرنے کے بعد اسے کاروبار میں لگا کر اس پر نفع حاصل کرنا اگر کمپنی کی انتظامیہ کا ذاتی معاملہ ہو، اور اس مذکور ٹرسٹ کے اندر رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہ ہو تو ملازم کے حق میں سود شمار نہیں ہوگا، اور اس صورت میں ملازمین کا ان رقموں کو اپنے تصرف میں لانا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔ ورنہ کمپنی کی طرف سے متنخب پانچ فیصد کا ستعمال جائز اور دوسری کا شبہ ربا کی بناء پر ناجائز ہے۔
ففی البحر الرائق: (والأجرة لا تملك بالعقد) (إلی قوله) (بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك (إلی قوله) لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (7/ 300)۔
وفی الهداية شرح البداية: الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه اھ (3/ 61)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1