کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر قسطوں پر جو گھریلو اشیاء لینی ہوں , مثال کے طور پر ایک چیز نقد میں 16,000 روپے کی ہے ،وہی چیز قسطوں پر تقریباً 20,000 کی ہوگی, جبکہ دوکاندار یہ کہہ کر دیتا ہے کہ ۳۰ فیصد شرح منافع لوں گا ۔ برائے مہربانی اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ اس طرح گھریلو اشیاء لینی جائز ہیں یا نہیں اگر نقد پر لینے کی حیثیت نہ ہو ؟ برائے مہربانی شرعی حیثیت سے میری رہنمائی فرمائیں۔
ادھار اور قسطوں کی صورت میں زیادہ قیمت لینا سود کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ ایسا معاملہ شرعاً جائز ہے بشرطیکہ مجلسِ عقد میں ہی ادھار پر معاملہ طے ہو جاتا ہو، نیز کل قسطوں کی تعداد اور ہر قسط کی رقم بھی متعین کی جاتی ہو اور پھر کسی قسط کی تاخیر پر مزید جرمانہ بھی نہ لگتا ہو ۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1