اللہ کے فضل و کرم سے امید کرتا ہوں کہ آپ خیر و عافیت سے ہونگے ، عرض یہ ہے کہ میں اور میرے کچھ ساتھی کافی دنوں سے ایک مسئلے کے بارے میں پریشان ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ براہِ مہربانی آپ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہمارے اس مسئلے کا حل بتائیں۔ ہم آپ کے بے حد مشکور ہونگے۔
مثال کے طور پر ہماری تنخواہ سے تقریباً = 500 روپیہ ہر مہینے پروویڈنٹ فنڈ کٹتا ہے ،جس میں کمپنی اتنی ہی رقم ہمارے اکاؤنٹ میں جمع کر دیتی ہے ،جو مبلغ =/1000 روپیہ ہو گیا ،اور پھر یہی رقم ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ میں جمع کر دیتی ہے جس پر سالانہ منافع تقریبا 14 یا 15 فیصد ملتا ہے جو ہمارے اکاؤنٹ میں جمع کر دیا جاتا ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کمپنی جو رقم منافع کی مد میں ہمارے اکاؤنٹ میں جمع کرتی ہے ،کیا وہ سود ہے یا نہیں؟
اس کٹوتی میں اگر ملازم کا کوئی اختیار نہ ہو، اور بہر صورت کاٹی جاتی ہو، تب تو ملازمت کے اختتام پر ’’جی پی فنڈ ‘‘ کے نام پر ملنے والی تمام رقم کا ملازم کے لئے اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز اور درست ہے ۔ اور اگر اختیاری ہو تو اپنی تنخواہ سے کاٹی جانے والی مقدار تک لے سکتے ہیں۔ زائد کا لینا سود کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ (البقرة: 279)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1