مندرجہ ذیل جواب پراویڈنٹ فنڈ کے بارے میں میں نے آپ کی فتویٰ آن لائن خدمت پر پڑھا، اگر ملازم کے پاس یہ اختیار رہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے، تو سود کے خدشے کی وجہ سے اجتناب کرنا چاہیے، جواب تفصیل سے دیں، یا اس کا مطلب واضح کریں۔ ’’سود کے خدشے کے تحت‘‘۔
محکمہ کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ کے نام پر ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے جو رقم کاٹی جاتی ہے، اس کی دو صورتیں ہیں:
۱ :وہ رقم جبراً کاٹی جاتی ہے، یعنی محکمہ کی طرف سے یہ قانوناً لازم ہوتا ہے،ملازم کو اس میں کسی قسم کا اختیار نہیں دیا۔
۲: رقم ملازم کے اختیار سے کاٹی جاتی ہے کہ اگر وہ چاہے ،تو اپنی پوری تنخواہ وصول کرے، اور محکمہ کو پراویڈنٹ فنڈ کے لیے تنخواہ سے کٹوتی کرنے کی اجازت نہ دے۔ بہرصورت محکمہ کٹوتی کے بقدر اس میں رقم شامل کرتاہے، اور بینک میں رکھوا لیتا ہے، اور بینک اس پر انٹرسٹ دیتا ہے، اور پھر تینوں رقوم کا مجموعہ ملازمت کے اختتام پر ملازم کو اپنی اصل رقم کے ساتھ دیدیا جاتا ہے۔
اب چاہے مذکور فنڈ جبری ہو یا اختیاری دونوں صورتوں میں اضافی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی، مگر جس صورت میں ملازم کے اختیار سے پراویڈنٹ فنڈ کے لیے رقم جمع کی جائے ،تو اس صورت میں ملازم کی رضا کی وجہ سے اضافی رقم میں سود ہونے کا شبہ اور خدشہ پیدا ہو جاتا ہے ،اور جس مال کے اندر سود کا شبہ ہو شرعاً اس سے احتراز بہتر ہے، اس لیے ہمارے فتویٰ میں لکھا گیا ہے کہ ’’سود کے خدشہ کے تحت‘‘ یعنی پراویڈنٹ فنڈ کے اختیاری ہونے کی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم میں سود کے خدشہ کی وجہ سے ملازم کو اس اضافی رقم کے لینے سے اجتناب کرنا چاہیے، یا محکمہ سے وصول ہی نہ کرے یا پھر وصول کرنے کے بعد صدقہ کردے اور اگر خود استعمال کرے تب بھی اس کی گنجائش ہے۔ والله أعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1