السلام علیکم محترم مفتی صاحب!مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ کا میرے بچپن میں انتقال ہو گیا ،اور والد نے مجھے چھوڑ دیا۔ میری والدہ کی ملکیت کا مکان وسونا فروخت کر کے وہ رقم میرے ماموں نے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ میں رکھوادی،میرے بالغ ہونے پر وہ رقم بینک کے بمعہ اضافی سود کے رقم میرے حوالےکر دی ہے، جبکہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ اصل رقم کتنی تھی، اور اس پر سود کیا جمع ہوا ہے؟ میری پیدائش غیر ملک میں ہوئی ہے،رقم بھی غیر ملکی بینک میں جمع تھی، میں بچپن میں ہی کراچی آگیا، اور کراچی میں بالغ ہوا، میرے بالغ ہونے پر غیر ملک میں مقیم میرے ماموں نے وہ رقم مجھے کراچی بھیجوا دی ہے۔
محترم مولانا صاحب! میں یتیم تھا، اس وقت میری عمر 20 سال ہے، نہ میرا گھر ہے، نہ میرا کاروبار ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں مجھے مشورہ دیں۔ (1) کیا اس رقم سے میں کوئی کاروبار کر سکتا ہوں؟ (2) کیا کوئی مکان خرید سکتا ہوں؟ (3) کیا کسی دوسرے کے کاروبار میں اس رقم کو بطور حصہ ملا سکتا ہوں؟ میں نے اپنے ایک مذہبی بھائی کے کاروبار میں اس کے ساتھ اس کے کاروبار میں حصہ ملانے کی خواہش ظاہر کی، تو انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ تمہارے پیسوں میں سود شامل ہو چکا ہے۔ اس طرح یہ رقم کا روبار میں شامل کرنے سے کاروبار میں لگی تمام رقم حرام یا گندی ہو جائے گی۔ کیا ان کی یہ بات درست ہے؟
واضح ہو کہ سودی معاملہ تو قطعاً جائز نہیں ،تاہم جب سائل نے یہ عقد خود انجام نہیں دیا ،اور ہوا بھی دارا الکفر میں ہے،اور اسے اصل اور سودی رقم کی وضاحت بھی نہیں کہ ان میں کیا تناسب ہے ،اور اسے یہ رقم بھی بطور وراثت یا گفٹ کے ملی تو اس صورت میں سائل کا یہ رقم اپنے استعمال میں لانا یا کسی دوسرے کے ساتھ اس رقم کے ذریعہ شراکت داری کا معاملہ کرنا درست ہے، الا یہ کہ سودی رقم معلوم ہونے پر اسے بلانیت ثواب صدقہ کرنا بہتر اور افضل ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به وإن كان كسبه من حيث لا يحل وابنه يعلم ذلك ومات الأب ولا يعلم الابن ذلك بعينه فهو حلال له في الشرع والورع أن يتصدق به بنية خصماء أبيه كذا في الينابيع اھ (5/ 349) واللہ اعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1