السلام علیکم!
رقم جو لی اور دی جاتی ہے ،سود کے طریقے پر ،یہودی بینک سے، کچھ علماء کا خیال ہے کہ یہ رقم لینا دینا جائز ہے، ان بینکوں سے جو یہودیوں کے ہیں، کیونکہ یہ رقم یہودی مسلمانو ں کے قتل کرنے اور ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، اسی طرح کسی طرح بھی یہ رقم آئے جائز ہے؟ اس کو تفصیل سے واضح کریں۔
دارالحرب میں غیر مسلموں سے سود لینے میں اختلاف ہے، امام اعظم اور امام محمدؒ جائز فرماتے ہیں، اور جمہور علماء اور امام مالکؒ اور امام شافعیؒ اور امام احمد اور حنفیہ میں سے امام ابو یوسفؒ حرام فرماتے ہیں ،روایات اور آیاتِ قرآن کریم میں بظاہر مطلقاً سود کی حرمت اور سخت وعیدیں مذکو رہیں، اس لئے احتیاط یہی ہے کہ ناجائز قرار دیا جائے۔ (ماخوذ امداد المفتین: ص ۷۵۱)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1