کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دو بھائی بنام خواجہ عابد حسین اور خواجہ عاصف حسین ولد خواجہ ناظر حسین ہم دونوں بھائی عرصہ دراز سے ایک ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، اللہ کا شکر ہے آج ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اللہ کے شکر سے اپنی فیکٹری ہے، اور اپنا ذاتی مکان بھی ہے، بہت اللہ کا کرم ہے ہر طرح کا اللہ کے شکر سے ہم کو آرام ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے چھوٹے بھائی نے بینک سے اس کے کہنے کے مطابق بہت کم نفع پر رقم منظور کرا کر حاصل کر رکھی ہے، میرے منع کرنے پر بھی وہ نہیں مانتا ہے، خواجہ عابد حسین یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس رقم سے کاروبار میں نفع ہوگا، تو وہ بینک کا نفع دینے کے بعد جو رقم بچت ہوگی ،اس رقم سے ہم کچھ رقم اللہ کی راہ میں تقسیم کرنے کے بعد ہم کو باقی جائز ہوگی ؟ اور اگر میرا بھائی بینک سے روپیہ لیتا ہے پھر مجھ کو کیا کرنا چاہیئے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
سودی معاملہ کرنا خواہ کسی خاص شخص سے ہو یا بینک وغیرہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے،اور احادیث ِمبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا سائل کے بھائی پر لازم ہے کہ مذکور ناجائز معاملے کو فوراً ختم کرے، اور اپنے ترقی یافتہ کاروبار کو زوال پذیر ہونے سےبچائے،نیز اس معاملہ کی وجہ سے جو گناہ سردز ہوا ہے، اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار بھی کرے۔ مگر محض نفع کے تصدق پر اکتفاء کر لینا قطعاً درست نہیں، اس عمل سے بھی احتراز لازم ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا ومؤكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) -
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1