کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تقریباً 12 بندے ایک پرائیویٹ کمپنی میں پکے ملازم ہیں۔ جہاں ہمیں سال بھر کے کل نفع میں ایک مرتبہ پانچ فیصد حصہ ملتا ہے ، اگر یہ کمپنی حقیقی منافع ظاہر کر کے دیانتداری کیسا تھ ہمیں دینا چاہیے یہ کافی کثیر رقم بنتی ہے ،اور یہ پانچ فیصد رقم ملازمین کو دینا حکومت کی قانون میں لازمی ہے، اور دوسری شق یہ بھی ہے کہ یہی رقم ملازمین کی چار تنخواہوں سے کم نہیں ہونا چاہیے ۔ اس حساب سے عام ملازمین کو چار مہینے کے تنخواہ کے بعد تقریبا 2800 ہزار روپے ملتے ہیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ ادائیگی رقم تاریخ پورا ہونے پر یہ رقم نہیں ملتی، بلکہ منافع کی کل رقم بینک میں جمع رہتی ہے اور حساب کتاب مکمل ہونے تک ایک دو مہینے گزر جاتے ہیں، اور ہمارے اس پانچ فیصد رقم پر بینک کی طرف سے کچھ رقم بطور سود بھی ملتی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ بینک کی طرف سے ملنی والی اضافی رقم کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کرے عنداللہ ماجور ہو ۔
جب مذکور رقم مبلغ 2800 روپے یا کم و بیش ملازمین کے قبضہ میں نہیں دی گئی، تو اس سے قبل اس پر لگنے والا انٹرسٹ ملازمین کے حق میں شرعاً سود کے حکم میں داخل نہیں، بلکہ یہ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے حق میں تبرع ہے، جسے وہ بلاشبہ اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ البتہ کمپنی اور بینک کے درمیان یہ معاملہ سودی ہے، جس کی وجہ سے یہ دونوں گناہ گار ہوں گے۔
كما في البحر الرائق: قوله ( بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300) واللہ أعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1