کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ ہمارے ہاں ایک کمیٹی سسٹم رائج ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ دو سو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے ،اور ایک شخص اس کا صدر ہوتا ہے ،اور کمیٹی کے تمام افراد ہر ماہ ایک ایک ہزار روپے جمع کرتے ہیں ،پہلا مہینہ جب مکمل ہو جاتا ہے ،تو قرعہ اندازی ہوتی ہے، جس کے نام کا بھی ٹوکن نکل آتا ہے ،اس کو پچاس ہزار روپے مل جاتے ہیں ،اور وہ کمیٹی سے الگ ہو جاتا ہے ،اور وہ مزید کسی قسم کی کوئی ادائیگی نہیں کرتا ہے، اسی طرح ہر مہینہ بعد قرعہ اندازی کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، جب پچاس دفعہ قرعہ اندازی ہو جاتی ہے، تو پچاس بندے پچاس پچاس ہزار روپے لے کر کمیٹی سے الگ ہو جاتے ہیں ،اس کے بعد قرعہ اندازی کا یہ سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے ،اور کمیٹی کا صدر جمع شدہ رقم سے کوئی جائز کا روبار کرتا ہے ،اور وہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ آئندہ پچاس مہینوں کے اندر کمیٹی کے جو ایک سو پچاس افراد باقی ہیں، ان کو پچاس پچاس ہزار روپے ادا کرے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کمیٹی میں شامل ہونا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں کمیٹی کا یہ مذکور طریقہ کار سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: {يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ } [البقرة: 276]۔
قال اللہ تعالیٰ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1