کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں مکتب میں بطور ِسزا قاری صاحب کا شرعی طور پر طالب علم کو کن کن جگہوں پر مارنا چاہیئے؟ اور کتنا مار نا چاہیئے؟ اور کس چیز سے مارنا چاہئیے؟ اس سوال کا مکمل تفصیل سے جواب وضاحت سے عنایت فرمائیں۔
استاذ اور معلِّم کا دس سال سے کم بچوں کو معمولی غلطی یا غلط فہمی پر سزا دینا بہت خطر ناک اور گناہ پر مبنی عمل ہے، جس کی معافی کی بھی صورت نہیں، اس لئے اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، ورنہ بروز ِقیامت جو ابد ہی نہ ہو سکے گی۔
تاہم اگر کسی واقعی غلطی پر ادب و تعلیم کی غرض سے ان کو سزادی جائے ،تو ہاتھ کے تین ضربات تک مارنے کی اجازت ہے، مگر وہ بھی چہرے پر اور اتنے زور سے نہ مارے کہ بدن پر نشان پڑ جائیں ،یا کوئی عضو تلف ہو جائے، جبکہ تین سے زیادہ ضربات مارنے اور لکڑی وغیرہ کے استعمال کی ممانعت ہے ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺنے مرداس نامی ایک استاذ اور معلِّم سے فرمایا تھا کہ بچے کو سزا کی ضرورت ہو تو تین سے زیادہ ضرب مت مارنا، ورنہ (کل قیامت کے دن) اللہ تعالی تجھ سے اس کا بدلہ لے گا۔
کما في الدر المختار: (وإن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد لا بخشبة) لحديث «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر» اھ (1/ 352)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: بيد) أي ولا يجاوز الثلاث، وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها «قال - عليه الصلاة والسلام - لمرداس المعلم إياك أن تضرب فوق الثلاث، فإنك إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منك» اهـ إسماعيل عن أحكام الصغار للأستروشني، وظاهره أنه لا يضرب بالعصا في غير الصلاة أيضا.(قوله: لا بخشبة) أي عصا، ومقتضى قوله بيد أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط أفاده ط.(قوله: لحديث إلخ) استدلال على الضرب المطلق، وأما كونه لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية المكلف. اهـ (1/ 352)۔