السلام علیکم!
و بعد از سلام عرض ہے کہ پرائز بونڈ خریدنا اور پھر اس کی انعام کی رقم کا کیا حکم ؟ اور اس کی زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ اگر کسی کے پاس پرائز بونڈ کی رقم ہے۔ تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ (۲) عرض ہے کہ بینک میں رقم رکھنا حرام ہے یا جائز ہے؟ اور اس رقم پر جو منافع ملتا ہے تو اس رقم کا کیا حکم ہے؟ بینک میں رقم بغیر منافع رکھوانا کیسا ہے؟ اس کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے
(۱) انعام کی غرض سے پرائز بانڈز خریدنا اور اس پر انعام حاصل کرنا شرعا ًجوئے اور سود کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس پر انعام کے نام سے ملنے والی رقم کا حکم یہ ہے کہ اُسے اصل مالک کو لوٹادیا جائے ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس انعامی رقم کو واجب التصدق ہونے کی وجہ سے بغیر نیتِ ثواب فقراء و مساکین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیں۔ جبکہ بانڈز کی اصل مالیت دوسرے اموالِ زکو یہ کے ساتھ ملانے کی صورت میں بقدرِ نصاب ہو تو سال پورا ہونے پر اس کا چالیسواں حصہ مستحقین ِزکوٰۃ کو مالک بنا کر دینا لازم ہے۔
(۲) اگر حفاظت کی کوئی دوسری جائز صورت ممکن ہو تو مروّجہ بینکوں کے کسی بھی کھاتے میں رقم رکھوانے سے احتراز لازم ہے، البتہ کوئی اور صورت ممکن نہ ہو تو بامر ِمجبوری بینک کے کرنٹ اکاونٹ میں رقم رکھوانے کی گنجائش ہے۔ اور اگر بقدرِ نصاب ہو تو اس رقم کی زکوٰۃ نکالنا بھی لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : ياأيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (المائدۃ:90)
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ،وقال :ھم سواء(6/51)۔
وفی الدرالمختار: (ولو خلط السلطان المال المغصوب بماله ملكه فتجب الزكاة فيه اھ(2/290)۔
وفی الشامیۃ: والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم ،والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ اھ(5/99)۔
وفیہ ایضاً: ویردونھا علیٰ اربابھا ان عرفوھم والا تصدقوا بھا،لان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علیٰ صاحبہ اھ(6/385)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1