کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جرمن میں رہتا ہوں، اور اپنا کاروبار یورپ میں جمانا چاہتا ہوں، میں یہ آپ سے پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ میرے پاس اچھی رقم نہیں ہے کاروبار اپنے طور پر خریدنے کے لئے ، اس لئے میں بینک سے رقم لے کر کاروبار کرنا چاہتا ہوں، اور بینک کے پیسے کی مدد سے چلتا ہوا کاروبار لینا چاہتا ہوں، اس میں میں 25 فیصد اور بینک 75 فیصد ہم سرمایہ لگائیں گے , اس کاروبار کی ملکیت رہن رہے گی بینک کے پاس , جب تک میں پوری رقم ادا نہ کر دوں یعنی بینک کی 75 فیصد رقم بھی ادا کر دوں بمع منافع کے پانچ سے دس سال میں، کیا اس کو سود کہیں گے؟ اسلامی شریعہ کیا کہتی ہے۔
محترم سائل !اگر آپ بینک سے رقم قرض لے کر کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور پھر باہم طے شدہ مدت تک یہ رقم مع منافع کے واپس لوٹانا چاہتے ہیں تو یہ معاملہ بلاشبہ ناجائز اور سودی ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر آپ بینک کے ساتھ مشترکہ کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس سلسلہ میں آپ کے اور بینک کے درمیان جن شرائط کے تحت کاروبار کرنا طے ہو جائے ان کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کمافی تفسیر المظھری: یمحق اللہ الربو ویربی الصدقات
والمعنی ان اللہ تعالیٰ حرم الزیادۃ فی القرض علیٰ القدر المرفوع اھ(1/399)۔
وفی تفسیر القرطبی: والربا الذی عرف الشرع شیئان: تحریم النساء والتفاضل فی العقود وغالبہ ماکانت العرب تفعلہ، من قولھا للغریم اتقضی ام تربی؟ فکان الغریم یزید فی المال ویصیر الزائد علیہ وھذا کلہ محرم باتفاق الامۃ اھ(2/236)۔
وفی الدرالمختار: کل قرض جر نفعاً فھو حرام اھ(5/166)۔
وفیہ ایضاً: الربا کل زیادۃ خال عن العوض اھ(5/169)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1