(۱): کیا فرماتے ہیں حضرات علماءِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کےبارے میں کہ اگر مثال کے طور پر زید کو پیسوں کی ضرورت ہے اور کسی سے قرض لینے کی صورت میں اس پر کچھ اضافی رقم بطورِ سود آجاتی ہے تو شریعت میں اس کی کوئی تدبیر ہے کہ وہ اضافی رقم بھی دے دیں اور سود کے گناہ میں بھی شامل نہ ہو۔
(۲) جبکہ کسی کے پاس گاڑی ہے، اس نے اس کو دو لاکھ روپے میں بیچ دیا اور پھر اس گاڑی کو ۳ لاکھ روپے میں قسطوں پر خرید لیا ۔ کیا یہ کام شریعت میں جائز قرار دیا جائے گا ؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں ۔
نوٹ: واضح ہو کہ سوال نمبر ۲ میں گاڑی فروخت کرنے والا شخص خریدار کو صرف گاڑی کے کاغذات حوالے کرتا ہے جبکہ گاڑی فروخت کرنے والے کے استعمال میں ہی رہتی ہے ۔
سود کی اضافی رقم کو حلال کرنے کی تو کوئی تدبیر نہیں ، البتہ سائل اپنے معاملہ کی تفصیل لکھ دے تو اس کے متبادل کوئی صحیح تدبیر بتائی جا سکتی ہے،جبکہ مذکور طریقہ سے محض کا غذات کی خرید و فروخت میں منافع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تنزیل العزیز:احل اللہ البیع وحرم الربوا (البقرۃ:275)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ،وقال :ھم سواء(6/51)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1