کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے متعلق کہ ظفر نے ایک گاڑی لینی ہے تو وہ مختلف شوروم یا کسی اور جگہ جا کر یا کسی اور جگہ گاڑی دیکھ کر پسند کر لیتا ہے اور پھر دوسرے شخص گل خان کو کہتا ہے کہ میں نے یہ گاڑی لینی ہے گل خان اس گاڑی کے مالک کو قیمت ادا کر کے کاغذات اس شخص سے وصول کر لیتا ہے اور یہ گاڑی درجِ ذیل طریقہ سے ظفر پر فروخت کرتا ہے۔
مثال کے طور پر گاڑی چھ لاکھ میں گل خان نے خرید کر آٹھ لاکھ میں ظفر کو ایک سال کے مدت میں قسطوں میں فروخت کر دی، جس میں کچھ رقم ظفر نے نقد یعنی ایک لاکھ گل خان کو دیدی اور باقی ایک سال میں دینی ہے۔
اس معاملہ میں آج کل شرط اور عرف اس طرح ہے کہ اگر اس دوران گاڑی چوری ہوگئی تو ظفر کی ادا کی گئی رقم اور باقی رقم گل خان کی ضائع ہو جاتی ہے جسے لوگ یہاں پر نفع و نقصان کہتے ہیں ۔اور اگر گاڑی کا ایکسیڈنٹ یا جل جاتی ہے اور گاڑی اتنی خراب ہو جائے کہ ظفر اس کو درست نہیں کر سکتا تو وہ اس گاڑی کا ڈھانچہ گل خان کے حوالے کر دیتا ہے تو جو کچھ ظفر نے نقد ادا کیا اور جو قسطیں دی وہ نقصان ظفر کا ہوتا ہے اور باقی ڈھانچے کا مالک گل خان ہو جاتا ہے، چاہے اسے بنائے یا بیچ دے۔ کیا یہ سود اور نا جائز کے زمرے میں آتا ہے ۔ اور اس کا جائز طریقہ کیا ہوگا؟ کہ آدمی ان ناجائز امور سے بچ سکے۔اور کیا قسطوں پر لے کر اس کا خریدنے والا ظفر ایک سال تک اس کی انشورنس کر والے تا کہ یہ رواج یا شرط فروخت کرنے والے کے لئے ختم ہو سکے ۔
مذکور طریقہ پر خرید و فروخت شرطِ فاسد پر مشتمل ہونے اور اسی طرح بیمہ کرانے کے عمل کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے۔ اس طریقہ پر عمل کرنے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ قسطوں پر خرید و فروخت کا معاملہ جائز طریقہ سے ممکن ہے، اس طور پر کہ بائع اور مشتری باہم معاملہ کرتے وقت نقد و ادھار کی قیمت کا تذکرہ کرنے کے بعد اسی مجلس میں کسی ایک قیمت کا فیصلہ کر لیں ۔ اب اگر اُدھار لینا ہی مقصود ہو تو اسی مجلس میں ادھار کی قیمت طے کرنے کے بعد اس کی کل قسطیں بھی طے کر لیں کہ کل اتنی قسطیں ہونگی ، اور ہر قسط میں رقم کی مقدار بھی طے کر لیں، اب اگر کوئی قسط مقرّرہ وقت سے مؤخر ہو جائے تو اس صورت میں خریدار پر کچھ اضافہ بھی نہ کیا جائے۔ چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں پر جو بھی معاملہ کیا جائے گا وہ شرعاً جائز ہوگا ، اور اس طرح فروخت کرنے کی وجہ سے نقد کے مقابلے میں جو زائد رقم دینی پڑتی ہے۔ وہ سود بھی نہیں ہے، اس کا لینا اور دینا دونوں امور شرعاً جائز ہیں۔
في الھداية شرح البداية: وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده اھ (3/ 48)۔
وفي المبسوط للسرخسي: فإن كان يتراضيان بينھما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنھما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1