السلام علیکم
محترم قابلِ عزت و احترام مفتی ! ہمیشہ قائم و دائم رہیں اللہ آپ کو اپنے حفظ وامان میں رکھیں محترم عرض آپ کے خدمت میں یہ ہے کہ میں پاک فوج میں خدمات سر انجام دے رہا ہوں۔ سرکاری آرڈر کے مطابق میرے ۔۔۔۔ DSP فنڈ کٹنگ 200 روپے ہے، میں اپنی مرضی سے 500سو روپے جمع کرا رہا ہوں جو سالانہ چھ ہزار (6000 )روپے بنتے ہیں۔ جس کے اوپر حکومت کی طرف سے سالانہ منافع جمع کر دیا جاتا ہے، اور اس جمع شدہ رقم سے زکوۃ کے پیسے بھی کاٹ دیے جاتے ہیں اس میں جتنی زیادہ رقم جمع کرایں گے، اتنے ہی زیادہ پیسے آخر میں ملیں گے۔ اور سالانہ منافع بھی زیادہ ہوگا۔ حکومت کی طرف سے جو سالانہ منافع ہمیں ملتا ہے ۔ وہ حکومت کی مرضی سے ملتا ہے۔ اگر ہم اپنی جمع شدہ رقم نکلوانا چاہیں تو وہ ہمیں مل تو جاتا ہے،لیکن اس کی یہ شرط ہے کہ ہم اپنے ماہانہ کٹنگ سے زیادہ رقم جمع کرانی ہوگی۔ یعنی قسطوں پر پیسے رقم واپس جمع کرانے پڑینگے ہیں DSP فنڈ ہماری ذاتی ملکیت کی رقم ہے اور جو حکومت کی طرف سے فند ملتا ہے وہ الگ ہے۔ آپ کی خدمت میں گزارش یہ ہےکہ آپ مہربانی فرما کر اپنے علم کی روشنی میں اور اسلام کے تقاضوں کے مطابق یہ فتویٰ جاری کریں کہ میں DSP فنڈ کو زیادہ کراؤں کہ نہ کراؤں؟ تاکہ مجھے آخر میں زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو خوش وخرم رکھے اور اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین ثم آمین! ہماری لئے بھی دعا کریں۔ والسلام
سائل نے زبانی طور پر وضاحت کی تھی کہ مذکور فنڈ میں دو سو روپے تک کی کٹوتی کروانا قانوناً لازمی ہے اور زائد کروانا اختیاری امر ہے اگر واقعۃً بھی ایسی بات ہو کہ یہ قانوناً لازمی ہے۔ تو اس صورت میں جبری D.S.P فنڈ میں سائل کی تنخواہ سے جو کٹوتی ہوتی ہے اور پھر اس پر حکومت کی طرف سے جو رقم شامل کی جاتی ہے اور اسی طرح بینک میں رکھنے کی وجہ سے جو سود کے نام سے جو رقم شامل ہوتی وہ سائل کے حق پشرعاً سود نہیں ہے سائل کے لئے اس کا لینا درست ہے۔ اور اگر یہ ایک اختیاری اسکیم ہو جیسے . G.PFund کی اختیاری صورت ہوتی ہے تو اس صورت میں مذکور فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے لی گئی رقم سے زائد ملازم کے لئے شرعاً سود کے حکم میں ہونے کی بناء پر نا جائز ہے ۔ وہ اس فنڈ سے صرف جمع کی گئی رقم کے برابر ہی مستفید ہو سکتا ہے اس سے زائد استعمال جائز نہیں۔
کمافی البحر الرائق: (وقولہ بل بالتعجیل او بشرطہ او بالاستیفاء او بالتمکن) یعنی لایملک الاجرۃ الا بواحد من ھذہ الاربعۃ والمراد انہ لایستحقھا(الیٰ قولہ) لکن لیس لہ بیعھا قبل قبضھا اھ(7/327)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1