السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ
اسکول میں اساتذہ کرام اور معاون اسٹاف بشمول پرنسپل ایڈمنسٹریٹرز کے لئے گریجویٹی فنڈز (Gratuity Fund) کا قیام کیا جا سکتا ہے
اگر ہاں تو کن شرائط و ضوابط کے مطابق
اس میں ذمے دار کے لئے کیا شرائط ہیں اور اساتذہ کرام کے لئے کیا شرائط ہیں ؟
تفصیلات فراہم کریں گے تو نوازش ہوگی جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ" گریجویٹی فنڈ" کامقصد در حقیقت ادارہ کی جانب سے اپنے اساتذہ و ملازمین کےبہترمستقبل کوپیش نظررکھتے ہوئے ایک ایسے فنڈکاقیام عمل میں لاناہوتاہے جس میں یا تو صرف ادارہ رقم جمع کرواتاہے یا ملازمین و ادارہ دونوں کی طرف سے رقم جمع کی جاتی ہے، اور ملازمت مکمل ہونے یا سبک دوشی کی صورت میں یہ رقم ملازم کو دے دی جاتی ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں اگرادارہ کامقصدیہی ہوتو شرعاً اس طرح کا فنڈ درج ذیل شرائط کے ساتھ قائم کرنا جائز ہے:
1. اگراس فندمیں ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی شامل ہوتوان سے لی جانے والی رقم ان کی ملکیت رہے، اور ادارہ کی طرف سے شامل کی جانے والی رقم تبرع و اعانت کے طور پر ہو۔
2. اگر تنخواہ سے کٹوتی رکھی جائے تو وہ ملازمین کی رضامندی سے ہو، جبر اًایسی کٹوتی جائز نہیں۔
3. فنڈ کی رقم سودی کھاتوں یا سودی اسکیموں میں رکھ کرنفع حاصل کرنا حرام ہے، البتہ فنڈ میں موجودرقم سے شرعی اصولوں کے مطابق چلنے والے غیر سودی اداروں میں سرمایہ کاری کی گنجائش ہوگی اوراس سے حاصل ہونے والانفع بھی ملازمین کاحق شمار ہوگا۔
4. فنڈ کے تمام ضوابط، کٹوتی، ادائیگی اور دیگر امور تحریری معاہدے کی صورت میں واضح طور پر طے کیے جائیں۔
5. فنڈ کا الگ اکاؤنٹ رکھا جائے، اسے ادارے کے دیگر اخراجات میں شامل نہ کیا جائے۔
6. فنڈ کا منتظم شرعاً امین کہلائے گا،لہذااس پرجمع و خرچ کا شفاف ریکارڈ رکھنا لازم ہوگا۔
7. ملازم کوقبل از وقت رقم نکالنے کا اختیار صرف اسی وقت ہوگا جب معاہدے میں یہ حق دیا گیا ہو۔بصورت دیگروہ ملازمت کے ختم ہونے پرہی اس رقم کی وصولی کاحقدارہوگا۔
جبکہ ریٹائرمنٹ یا مدتِ ملازمت پوری ہونے پر جمع شدہ رقم کے ساتھ ادارہ کی طرف سے دی جانےوالی اضافی رقم ملازم کے حق میں ہبہ (گفٹ )قرارپائے گی، جسے لیکراپنے استعمال میں لانا ملازم کے جائزاورحلال ہوگا۔
مندرجہ بالا شرائط کی رعایت کے ساتھ اساتذہ، معاون اسٹاف اور پرنسپل کے لیے گریجویٹی فنڈ قائم کرنا شرعاً جائز و درست ہے،بشرطیکہ فنڈ سود سے پاک، شفاف اور باہمی رضامندی پر مبنی ہو۔
کمافی سنن الترمذی: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني ، عن أبيه، عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما،» والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما الخ(ابواب الاحکام عن رسول اللہﷺ، باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح بين الناس،ح1352،ج3،ص27،ط:دار الغرب الاسلامی)۔
وفی الھدایۃ: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك(الی قولہ)ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفي الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع الخ(کتاب الھبۃ،ج3،ص222،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الھندیۃ:لایثبت الملک للموھوب لہ إلا بالقبض ھکذا فی الفصول العمادیہ الخ(کتاب الھبہ،ج4،ص378،ط:ماجدیۃ)-