کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو فریقین نے آج سے تقریباً 7 سال پہلے کا روبار شروع کیا ، اس میں ایک فریق کراچی میں تھا اور دوسرا فریق گاؤں میں، گاؤں والے فریق نے کراچی والے فریق کے ساتھ پیسے لگائے اور معاہدہ ہواکہ کاروبار میں جو نفع ہوگا اس میں سے 20 فیصد کراچی والا فریق اپنے محنت کا صلہ اُٹھائیگا ، باقی 80 فی فیصد میں آدھا آدھا یعنی چالیس فیصد برابر کا حصہ لیا جائگا ، یعنی کراچی والا فریق کل نفع میں سے 60 فیصد لے گا، اور فریق دوم 40 فیصد حصہ لے گا، کاروبار ٹوٹل کراچی والا فریق سنبھا لیگا ۔ اللہ نے کرم کیا کاروبار میں خوب ترقی ہوئی، مگر ساتھ ساتھ حساب کتاب میں بھی خوب کوتاہیاں ہوئی ، فریق دوئم کو کاروبار کے حساب سے حصہ نہیں دیا گیا ،وقتا فوقتا کچھ رقم اُس کو بھیجا گیا، مگر نفع کے نسبت سے بہت کم تھا, کچھ عرصہ میرا کاروبار نقصان کے طرف جانے لگا۔ اور اچھی خاصے قرضوں میں جھکڑ گیا ہے ۔ اب فریق اول کو کو اپنے گناہوں کا احساس ہو گیا ہے، توبہ استغفار کرنا چاہتا ہے اور آئندہ کے لئے صدقِ دل سے کام کرنا چاہتا ہے اور فریق دوم کی جو حق تلفی ہوا ہے اُس کا بھی ازالہ کرنا چاہتا ہے ۔اب ایک مسئلہ ہے، چونکہ کاروبار سارا کراچی والے فریق کے ہاتھ میں ہے جو قرضےہیں یا جو بھی لین دین ہے وہ کراچی والے فریق کے ہاتھ میں ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی ولا فریق چونکہ اپنی محنت کا صلہ 20 فیصد لے رہا ہے، مگر ساتھ میں کہتا ہے کہ کراچی میں کاروبار کے علاوہ اپنے گھر کا خرچہ بھی کاروبار کے مشترکہ پیسوں سے چلاؤنگا اور 20 اور 40 فیصد حصہ پورا کا پورا لونگا، کیا یہ جائز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
۲۔ چونکہ جب سے کاروبار شروع کیا ہے فریق دوم صرف دوبار کراچی آئے ہیں، اپنے ذاتی کام سے اور ساتھ میں کاروبار کا وزٹ کیا ہے باقی سارا عرصہ کاروبار کراچی والے فریق نے چلایا ہے، اب چونکہ کاروبار کو چلانے کے لئے کراچی والے فریق کے کبھی دو بھائی ہوتے ہیں، کبھی تین کبھی ایک بھائی یہ جو محنت کا 20 فیصد رقم ہے، اس میں سب شامل ہونگے، ایک بھائی جب 20 فیصد محنت کی بات ہوئی تھی اس وقت سے تینوں بھائی مشترکہ ہیں، نیز چونکہ فریق دوئم کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوئی ہے،لہٰذا وہ ابھی کافی بدظن ہوا ہے اور کہتا ہے کہ میرا حساب کرو اور مجے فارغ کردو ۔
نوٹ: رقم گاؤں والے کی پہلے 450000 اور دوسرے فریق کی 0000 45۔ بعد میں گاؤں والےنے 1400000 مزید دیے۔
فریقین کا طے شدہ فیصد کے حساب سے منافع وصول کرنا درست ہے اور فریق اول کے اپنے کام کی وجہ سے فیصد زیادہ رکھے یہ بھی جائز ہے، لیکن یہ درست نہیں کہ وہ گھریلو اخراجات بھی اس کاروبار سے چلائے، لہذا اب تک کے جو معاملات انجام پا چکے ہیں ان کا مکمل حساب کر کے فریق دوم کو طے شدہ فیصد کے اعتبار سے اس کا حصہ دینا لازم ہے۔ اور پھر اگر وہ نیا معاہدہ کر کے دوبارہ باہم کاروبار کرنا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے، مگر نقصان اٹھانے کے بعد اعتبار کرنا اور آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا اپنے آپ کو مزید نقصان کے لئے تیار کرنے کے مترادف ہے، اس لئے اس سے احتراز ہی بہتر ہے ۔
كمافي مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين» . متفق عليه (3/ 1404)۔
وفي الدر المختار: وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط اھ (4/ 312)۔
وفي الفتاوى الھندية: وأن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة اھ (2/ 302)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0