مفتی صاحب! مسئلۂ مذکورہ میں علماءِ دین کیا فرماتے ہیں کہ مزدوروں کا %5پر سود لینا
تفصیل : لیبرقانون کے مطابق کمپنی کو جو سالانہ منافع ہوتا ہے،کمپنی اس میں سے %5 مزدور کو دیتی ہے۔ کمپنی کا یہ سالانہ حساب 30 جون پر ہوتا ہے، کبھی یہ پانچ فیصد منافع جولائی میں بینک میں رکھ دیتی ہے اور مارچ کے نصف کے بعد کسی دن بورڈ کو 5 منافع جمع جولائی سے مارچ تک بینک منافع ملا کرورکرز میں تقسیم کر دیتی ہے۔ مذکورہ پانچ فیصد میں کسی ملازم کو وصول ہونے تک کوئی اختیار نہیں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ کمپنی پانچ فیصد کے ساتھ جو بینک منافع ملا کر بورڈ کے حوالے کرتی ہے، آیا یہ بینک منافع مزدور کو لینا اور اپنی استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں ؟
مذکور منافع بنک میں رکھوا کر اس پر نفع لینے میں اگر ملازمین کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ کمپنی مالکان اپنی مرضی سے بنک میں رکھواتے ہوں اور بعد میں ملازمین کو دیدتے ہوں تو یہ ملازمین کے حق میں شرعاً سود نہیں بلکہ کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم کا حصہ ہے جس کا لینا ان کے لئے شرعاً جائز ہے۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1