(1) کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک شخص نے مکان خریدنے کا ارادہ کیا کچھ رقم ساس صاحبہ سے لی کچھ رقم بیگم کے پاس موجود تھی جو وہ اپنے والدین کے گھر سے لائی تھی ، کچھ رقم اس شخص نے بھائیوں سے ادھار لی، کچھ رقم کسی نے تبرعاً دی اور اس شخص نے وہ مکان اپنے لئے خرید لیا، بھائیوں کے قرضہ میں سے بھائیوں کو کچھ رقم واپس بھی کر دی اور کچھ باقی ہے، یہ بندہ چونکہ والد اور دیگر بھائیوں کے ساتھ مشترک خرچہ میں رہ رہا ہے، لیکن اس مکان میں گھر کے خرچہ یا والد اور بھائی کی رقم میں قرض کے علاوہ کچھ بھی رقم نہیں خرچ کی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں یہ مکان اس کی ذاتی ملکیت ہے یا اس میں والد اور دوسرے بہن بھائیوں کا بھی حصہ ہے؟
(2) اسی طرح اس شخص نے دوسر سے مکان کو خریدنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے چچازاد بہنوں ، بھائیوں اور مختلف لوگوں سے قرضہ لیا والد صاحب سے بات کی تو والد صاحب نے بھی پندرہ لاکھ روپیہ بشرط ایک سال میں واپسی بطور قرضہ حسنہ دیے اور اس شخص نے وہ مکان خرید لیا ،والد صاحب اس قرض کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ بندہ دینے کی کوشش میں ہے اور کچھ لوگوں کا قرضہ واپس بھی کیا ہے، اب اس مکان میں والد صاحب اور دیگر بہن، بھائیوں کا حق ہے کہ نہیں، یا یہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہو گی؟
سوال میں درج بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ شخصِ مذکور نے جن جن افراد سے رقوم لے کر مکان خرید نے میں لگائی ہے، اگر وہ رقم ان افراد سے بطورِ قرض ہی لی تھی بطورِ شراکت نہ لی تھی تو اب ان حضرات کو ان کا قرض ہی واپس کرنا لازم ہے، وہ اپنے قرض کی وجہ سے مکان میں حصہ دار اور شریک نہیں بنیں گے ، تاہم سوال کی نوعیت اگر مختلف ہو تو مکر رسوال کر کے اس کے متعلق حکمِ شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
كمافي الدر المختار:(ويملك) المستقرض (القرض بنفس القبض عندهما) أي الإمام ومحمد خلافا للثاني فله رد المثل ولو قائما خلافا له بناء على انعقاده بلفظ القرض وفيه تصحيحان وينبغي اعتماد الانعقاد لإفادته الملك للحال بحر. (5/ 164)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله بنفس القبض) وذلك أن ظاهر كلام المتن ترجيح قولهما، فكان المناسب للشارح أن يقول: وعلى هذا ينبغي اعتماد انعقاد النكاح بلفظ القرض، وهو أحد التصحيحين لإفادته الملك للحال فافهم اھ (5/ 164)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب اھ(5/ 690)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: حكم القرض: يثبت الملك في القرض عند أبي حنيفة ومحمد بالقبض، فلو اقترض إنسان مدّ حنطة وقبضه، فله الاحتفاظ به، ورد مثله وإن طلب المقرض رد العين، لأنه خرج عن ملك المقرض، وثبت له في ذمة المقترض مثله لا عينه، ولو كان قائماً. وقال أبو يوسف: لا يملك المقترض القرض ما دام قائماً اھ (5/ 3790)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0