کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب میں کام کرتا تھا تو اس وقت کی کچھ بچت میرے پاس ہے، اب میں اس رقم کو ایک مناسب رقم کمانے کے لئے کہیں لگا کے استعمال کرنا چاہتا ہوں، کچھ نے مجھے تجویز کیا ہے کہ میں ڈیفنس سرٹیفیکیٹ خرید لوں مجھے علم نہیں ہے کہ اس سے جو فائدہ ہوتا ہے وہ حرام ہے یا حلال ؟ کیا مجھے اس رقم ڈیفینس سیونگ سرٹیفیکیٹ خریدنے چاہیئے ؟ کیا پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ ہے جہاں میں اپنی رقم جمع کر سکوں؟
ہماری معلومات کے مطابق سرکاری طور پر سرمایہ کاری کا کوئی بھی طریقہ سود سے پاک نہیں، لہٰذا ایسے سرٹیفیکیٹ خریدنے اور اُن کے ذریعے سرمایہ کاری سے احتراز لازم ہے۔
البتہ ’’المیزان بینک‘‘ کا طریقہ کار ابھی تک علماء کی زیر نگرانی ہے جو جائز اور حلال طریقہ کے مطابق سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لئے اس بینک جا کر اُن سے معلومات کرنے کے بعد اپنی رقم ان کے کسی بھی پروجیکٹ میں لگا سکتے ہیں۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1