السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کہ بندہ محمد اویس نے ایک کمپنی میں چار کروڑ روپے بطور مشارکت انویسٹ کیے، کمپنی کے پانچ میں سے تین مالکان عالم دین تقریباً چھ سال میں جتنی انویسٹمنٹ لگائی تھی اتنی رقم ماہانہ نفع کی صورت میں وصول کر لی، بندہ نے کمپنی کے کاروبار جو کہ ملائشیا اور دبئی میں تھے جا کر دیکھے تھے، چھ سال کے بعد اچانک کمپنی کے مالکان بھاگ گئے، تب معلوم ہوا کہ جو کاروبار تھا وہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے تھا حقیقت میں کوئی کاروبار نہ تھا،ہر مہینے نئی انویسمنٹ اٹھا کر لوگوں کو نفع کی صورت میں دی جاتی تھی ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو کمپنی کے پاس موجود ہے اور اب نیب کے ادارہ مالکان کو گرفتار کر کے ان سے رقم ریکور کر رہے ہیں اور لوگوں کے اصل سرمایہ واپس کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ کیا ہمارے لیے اصل سرمائے واپس لینے کی شرعی اعتبار سے اجازت ہے یا جائز نہیں ہو گا؟ براہ کرم تفصیل سے حوالے جات کے ساتھ جواب مرحمت فرمادیں۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے باہمی رضامندی سے کاروبار کئے بغیر ایک دوسرے کے مال کھانے کو باطل اور ناحق طریقے سے مال کھانا بتلایا ہے اور اس سے منع فرمایا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاض مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا ﴾ [النساء: 29]
"اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضا مندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے)"
اس تمہید کے بعد سائل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی میں انویسٹمنٹ کے بعدجب سائل کو معلوم ہوا کہ کمپنی نے ان پیسوں کو کسی حقیقی کاروبار میں نہیں لگایا بلکہ وہ محض دھوکہ دہی سے منافع کے نام پر انہی پیسوں میں سے تھوڑے تھوڑے واپس کرتے رہے ہیں،تو چونکہ سائل کی جمع کروائی گئی رقم کسی کاروبار میں نہیں لگی،اور سائل کے بقول وہ اپنی جمع کروائی گئی رقم کے بقدر واپس بھی لے چکا ہےاگر چہ نفع کے نام پر ہی کیوں نہ ہو،لہٰذا اب سائل کے لئے اپنے اصل سرمایہ کے نام پر زائد رقم حاصل کرنا جائز نہیں،اور اگر وہ اپنی جمع شدہ رقم سے زائد اضافی رقم وصول کرچکا ہو تو اس کو بھی واپس کمپنی کو لوٹانا یا اس دھوکہ دہی اور فراڈ کی تحقیق کرنے والے ادارے کو آگاہ کرکے ان کے حوالے کرنا ضروری ہے تاکہ وہ یہ رقم ان کے اصل مالکان کو واپس لوٹا سکیں ،سائل کے لئے اسے اپنے زیرِ استعمال رکھنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
«أحكام القرآن للجصاص ط العلمية» (1/ 183):
«قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] فحظر أخذ مال كل واحد من أهل الإسلام إلا برضاه على وجه التجارة. وبمثله قد ورد الأثر عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه" فمتى لم يرض القاتل بإعطاء المال، ولم تطب به نفسه فماله محظور على كل أحد.»
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0